رسائی کے لنکس

پلے لینڈ کے قریب ہی واقع ایک ’مچھلی گھر‘ بھی ہوا کرتا تھا جو ملک کے اندرونی حصوں اور خود کراچی والوں کے لئے بہت دلچسپی کا باعث ہوا کرتا تھا۔ اس لئے لوگ ساحل پر آتے تو مجھلی گھر دیکھے بغیر واپس نہ جاتے

کراچی کا سب سے مشہور ساحلی علاقہ ’سی ویو‘ یا ’کلفٹن‘ بہت تیزی سے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہا ہے۔ ایک دور میں شہر بھر کے لوگ صدر آتے اور یہاں سے 20 نمبر کی بس پکڑ کر سیدھے ساحل تک جا پہنچتے۔

چونکہ اس دور میں سب سے کم کرایہ 20نمبر کا ہی ہوتا تھا اور یہ ساحل کے بالکل سامنے ’ہوا بندر‘ تک آتی اور یہیں سے واپس جاتی تھی اس لئے بھی لوگوں کی اکثریت کلفٹن تک آنے جانے کے لئے اسی بس کو ترجیح دیتے تھی۔

یہ 1986 اور 1990 تک کا وہ دور تھا جب شہر نہ تو آج کی طرح کے ایمیوزمنٹ پارکس ہوا کرتے تھے اور نہ ہی سوئمنگ پولز یا واٹر پارکس چنانچہ کلفٹن کا ’پلے لینڈ‘ سارے شہر میں ہی نہیں ملک بھر میں مشہور تھا اور اپنی نوعیت کا واحد پارک تھا۔

لوگ صبح سے شام تک ساحل پر نہاتے یا تیرتے رہتے تھے، وہیں کہیں ریتیلے کنارے پر گھر سے لایا ہوا دوپہر کا کھانا، شام کی چائے اور اس کے ساتھ مختلف اسنیکس، سموسوں، سینڈوچ اور بسکٹ کے مزے لیتے اور جیسے ہی سورج کا سایہ گھنا ہوتا اور اندھیرا پاؤں پھیلانے کی تیاری کرتا لوگ جھولوں کا مزہ لینے پلے لینڈ پر پہنچ جاتے۔ یہاں اس وقت کے لحاظ سے جدید سمجھے جانے والے جھولے ہوا کرتے تھے۔

پلے لینڈ کے قریب ہی واقع ایک ’مچھلی گھر‘ بھی ہوا کرتا تھا جو ملک کے اندرونی حصوں اور خود کراچی والوں کے لئے بہت دلچسپی کا باعث ہوا کرتا تھا۔ اس لئے لوگ ساحل پر آتے تو مچھلی گھر دیکھے بغیر واپس نہ جاتے۔

وسیع و عریض مچھلی گھر غالباً اس وقت بھی ائیر کنڈیشنڈ ہوا کرتا تھا جبکہ مچھلی گھر میں درجنوں بڑے بڑے سائز کے ایکوریم ہوا کرتے تھے جن میں درجنوں قسم کی مچھلیاں تیرتی نظر آتی تھیں۔

مچھلیوں کی ڈھیر ساری اقسام، ان کی بناوٹ، ان کے خوبصورت اور دلکش رنگ، پانی میں قلابازیاں کھانے کے طریقے اور تیرتے تیرے خوراک کھانے کے انداز لوگوں کی دلکشی کا باعث ہوا کرتے تھے۔ کئی کئی گھنٹے اس مچھلی گھر میں صرف کردیا کرتے تھے۔

تفریحی مقامات کی قلت کا شکار کراچی والوں کے لئےیہ مچھلی گھر قدرت کے نظاروں کا لطف اٹھانے کا بہت ہی سستا اور دلفریب ذریعہ ہوا کرتا تھا مگر 1953 میں شروع اور 1965 میں مکمل ہونے والی یہ عمارت رفتہ رفتہ خستہ حال ہوتی چلی گئی۔

دیواریں سمندری نمکیات والی ہواؤں کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ رہیں۔ سہولیات کا فقدان ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ مناسب دیکھ بھال کرنے والے تک نہ رہے تو بالآخر کے ایم سی نے جو اس کی اصل مالک تھی سنہ 1998 میں اسے بند کردیا۔

تاہم، اب ایک دلچسپ خبر یہ ہے کہ کراچی میونسپل کارپوریشن نے18سال بعد اسے اگلے سال دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔اس زمانے میں یہ مچھلی گھر شہری حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

کے ایم سی نے 2012 میں مچھلی گھر کے لئے10 کروڑ روپے کی منظوری دی تھی۔ اسی سال کے ایم سی نے مچھلی گھر میں پانی کے اندر سرنگ بنانے کا فیصلہ کیا جس میں مچھلی گھر آنے والے وزیٹرزواٹر ٹینک میں چہل قدمی کرکے سمندری حیات کا قریب سے مشاہدہ کرسکیں گے۔

کے ایم سی کے ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹی کلچر، اسداللہ شاہ کے مطابق ’’مچھلی گھر کا رقبہ 1500 اسکوائر فٹ ہے۔موجودہ عمارت ٹوٹی پھوٹی، ویران اور کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ موجودہ عمارت میں جگہ جگہ لوہے کی سلاخیں نظر آنے لگی ہیں اور عمارت خستہ حالی کا شکار ہے۔ لکڑی کے خستہ حال دروازے پر تالا پڑا ہے اور کھڑکی کی سلاخیں بھی زنگ آلود ہوچکی ہیں۔

اسد اللہ شاہ کے بقول کے ایم سی نے مچھلی گھر دوبارہ کھولنے کے لئے 15 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ فنڈزکی قلت کی وجہ سے مچھلی گھرکی تعمیر2009 میں روک دی گئی تھی۔ اب فنڈز دوبارہ جاری کر دئیے گئے ہیں اور آئندہ سال تک مچھلی گھر کو دوبارہ عوام کے لئے کھول دیا جائے گا۔ یہاں مچھلیوں کی 600 مختلف اقسام رکھی جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG