رسائی کے لنکس

کاریز کے روایتی نظام آبپاشی کے فروغ کی کوششیں


ہنہ اوڑک جھیل

ہنہ اوڑک جھیل

بلوچستان کے 34 اضلاع میں سے صرف دو میں کاریز اصل صورت میں موجود ہیں جن میں ضلع پنجگور اور ضلع کیچ شامل ہیں۔ بلوچستان میں گزشتہ 15 سالوں کے دوران برفباری اور بارشوں میں شدید کمی آئی ہے جس سے مختلف علاقوں میں 10 سے 50 فیصد کاریز خشک ہوچکے ہیں

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہٴ بلوچستان میں قدیم نظام آبپاشی ’کاریز‘ کو گزشتہ سال اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت نے عالمی ورثہ قرار دیا۔ ادارے کے مطابق، دنیا میں بنجر اور نیم بنجر علاقوں میں کاشت کاری کیلئے کاریز کا نظام آبپاشی اہمیت کا حامل ہے۔

بلوچستان میں اِن دنوں، کاریز کا نظام آبپاشی معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔

’زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان‘ کے رہنما، عبدالرحمان بازئی کے مطابق، بلوچستان کے 34 اضلاع میں سے صرف دو میں کاریز اصل صورت میں موجود ہیں جن میں ضلع پنجگور اور ضلع کیچ شامل ہیں۔

عبد الرحمان بازئی نے بتایا کہ ”صوبے میں کاریزوں کا نظام مغلوں کے دور سے شروع ہوا۔ اور ایک محتاط اندازے کے مطابق، بلوچستان میں 6000 سے زائد کاریز موجود تھے۔ مگر اب اس تعداد میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں کاریز کمیونٹی کا مشترکہ اثاثہ تھا اور لوگ ہر ماہ میں 16 دن پانی کو منصفانہ تقسیم کے ذریعے استعمال کرتے تھے۔“

زمینداروں کے مطابق، قدرتی نظام آبپاشی یعنی کاریز کو اس وقت زیادہ نقصان پہنچا جب 1997ء سے 2005ء تک بلوچستان میں بدترین خشک سالی رہی۔

’بین الاقوامی یونین برائے تحفظ ماحولیات ( آئی یو سی این)‘ کے مطابق، بلوچستان میں گزشتہ 15 سالوں کے دوران برفباری اور بارشوں میں شدید کمی آئی ہے جس سے مختلف علاقوں میں 10 سے 50 فیصد کاریز خشک ہوچکے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی بھی ہے۔ ادارے کے پروجیکٹ کوآرڈینٹر، نصیب اللہ خان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ صوبے میں کاریزوں کے کمی کی وجہ بے تحاشا ٹیوب ویلوں کی تنصیب ہے۔

نصیب اللہ خان کے بقول، ”بلوچستان کے بالائی علاقوں میں موسم سرما کا دورانیہ چھ سے آٹھ ماہ تھا جو اب کم ہوکر صرف تین ماہ تک رہ گیا ہے۔ کاریزوں کی خشک ہونے کی ایک دوسری بڑی وجہ زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی بھی ہے“۔

محکمہٴ آبپاشی بلوچستان کے چیف انجینئر نارتھ، پرویز بخاری نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ حکومتی سطح پر خشک ہونے والے کاریزوں کی بحالی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ”اس مقصد کیلئے زیر زمین پانی کو ریچارج کرنے کیلئے صرف کوئٹہ کے گرد و نواح میں100 چیک ڈیمز بنائے جا رہے ہیں۔ وفاقی سطح پر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت (پی ایس ڈی پی) کوئٹہ میں مزید 200چیک ڈیمز منظور ہوچکے ہیں اس کے علاوہ قلعہ عبداللہ میں بھی 100ڈیلے ایکشن ڈیمز بنانے کی منظوری ہوچکی ہے“۔

آبپاشی کے جدید نظام کی موجودگی کے باوجود، آج بھی بعض زمیندار پرانے طرز آبپاشی کو ترجیح دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، صوبے میں زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے اور چیک ڈیمز کی تعمیر سے عالمی ورثہ قرار دئیے جانیوالے کاریزوں کی بحالی میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG