رسائی کے لنکس

افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم

  • یاسر منصوری

صدر کرزئی جرمن چانسلر کے ہمراہ

صدر کرزئی جرمن چانسلر کے ہمراہ

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ’’بدقسمتی‘‘ سے پاکستان نے بون کانفرنس میں شرکت نہیں کی لیکن اُس کا یہ فیصلہ قیام امن کے لیے دونوں ملکوں کو تعاون اور مل جل کر کام کرنے سی نہیں روکے گا۔

منگل کو پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ نے افغان رہنما کی مختصر گفتگو نشر کی جس میں اُنھوں نے کہا کہ اُن کی شدید خواہش تھی کہ پاکستان اس اجلاس میں شریک ہوتا۔

’’پاکستان کے لیے اپنے خیالات کے اظہار، افغانستان اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں اپنی شرائط پر دنیا کو پیغام دینے کے لیے یہ ایک اچھا موقع تھا۔‘‘

صدر کرزئی نے کہا کہ اُن کا ملک ’’پُرامن سرحد کے مشترکہ اور نیک‘‘ مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات اور رابطے جاری رکھے گا۔

مستقبل میں امن عمل میں پاکستان کی شمولیت کے امکانات پر پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ ’’جو کوئی بھی اس عمل کا حصہ بننا چاہتا ہے اُس کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

اس سے قبل منگل کو برلن میں جرمن چانسلر انگیلا مرکل کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھی صدر کرزئی نے کہا کہ افغان امن کے عمل بشمول طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کا ایک انتہائی اہم کردار ہے۔

اُدھر افغانستان کی اپوزیشن جماعت نیشنل سولیڈیرٹی موومنٹ کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ سید اسحاق گیلانی نے توقع ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں افغانستان سمیت اتحادی ملکوں اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا ’’کیوں کہ خطے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے‘‘۔

وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے افغان سیاسی رہنما نے بون کانفرنس کے نتائج پر عدم اطمینان کا بھی اظہار کیا۔ ’’یہ بین الاقوامی برادری اور افغان حکومت کے لیے ایک بڑا معاملہ تھا لیکن اس ملک (افغانستان) کے عوام کے لیے نہیں۔‘‘

اسحاق گیلانی نے کہا کہ اس اجلاس میں زیادہ توجہ افغان قیادت کی حمایت پر دی گئی جب کہ افغان عوام کو درپیش اقتصادی، منشیات کی تجارت، بدعنوانی اور سلامتی جیسے مسائل کو نظر انداز کر دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG