رسائی کے لنکس

افغانستان کے معاملات سنبھالنے میں صدر کرزئی کے لیے مشکلات، مواقع

  • شان مرونی

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو اس بات کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کو برسوں کے جنگ و جدال سے نجات دلانے کی کوشش کریں۔ دنیا بھر کے ملکوں نے منگل کے روز صدر کرزئی کے اس مطالبے کی تائید کی کہ بین الاقوامی برادری کم از کم 50 فیصد ترقیاتی امداد افغان حکومت کی وساطت سے خرچ کرے۔ عطیات دینے والے ملک 2001 سے اب تک افغانستان میں چالیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر چکے ہیں۔

60 سے زیادہ ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے صدر حامد کرزئی کی اس حکمت عملی کی تائید کے بعد کہ افغانستان کے لوگ بتدریج اپنے ملک کے معاملات کی ذمہ داری خود سنبھالیں گے، کابل سے رخصت ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو اس بات کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کو برسوں کے جنگ و جدال سے نجات دلانے کی کوشش کریں۔ دنیا بھر کے ملکوں نے منگل کے روز صدر کرزئی کے اس مطالبے کی تائید کی کہ بین الاقوامی برادری کم از کم 50 فیصد ترقیاتی امداد افغان حکومت کی وساطت سے خرچ کرے۔ عطیات دینے والے ملک 2001 سے اب تک افغانستان میں چالیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر چکے ہیں۔

افغانستان کے وزیرِ خزانہ، حضرت عمر زخیل وال نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ حکومت یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیئے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغان حکومت جانتی ہے کہ لوگوں کی ترجیحات کیا ہیں اور پورے ملک میں متوازن ترقی کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے ۔ غیر ملکی امداد پر حکومت کا کنٹرول ہونا چاہیئے کیوں کہ افغان عوام کو سہولتیں فراہم کرنا اور ترقیاتی کام کرنا حکومت کا حق ہے ۔

لیکن افغانستان کے سینٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی اسٹڈیز کے ہارون میر کہتے ہیں کہ حکومت اپنی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے میں مبالغے سے کام لے رہی ہے ۔ ملک کی بیشتر وزارتیں افغانستان کے دو ارب ڈالر کے ترقیاتی بجٹ کا انتظام کرنے میں نا کام رہی ہیں ۔ ان کے الفاظ ہیں:

“میں نہیں جانتا کہ وہ راتوں رات اس سے بڑی رقم کا انتظام کرنے کی صلاحیت کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔مسئلہ پیسے کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ افغان حکومت کے اندر اسے صحیح طریقے سے خرچ کرنے کی گنجائش نہیں ہے، اہم ترین مسئلہ کرپشن کا ہے۔”

لیکن ہارون میر کہتے ہیں کہ مسٹر کرزئی کو ایک موقع ملا ہے، افغان عوام اوربقیہ دنیا کو یہ دکھانے کا کہ کرپشن کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً، افغانستان کے اٹارنی جنرل نے حال ہی میں اعلان کیا کہ پندرہ وزیر بدعنوانیوں میں ملوث ہیں، اور مسٹر کرزئی کی کابینہ نے ان کے اس منصوبے کی حمایت کی کہ ان لوگوں پر مقدمے چلانے کے لیئے ایک نئی عدالت قائم کی جائے۔ ہارون میر کہتے ہیں:

“اب ہم سب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ کیاصدر کرزئی میں اتنا سیاسی حوصلہ ہے کہ وہ ان وزیروں کے نام بتائیں جن پر بد عنوانیوں کا الزام ہے، اور ان پر کھلے عام فرد ِ جرم عائد کریں۔اگر انھوں نے ایسا کیا تو یہ افغان عوام اور بین الاقوامی برادری کے لیئے اشارہ ہوگا کہ اس بار صدر کرزئی واقعی سنجیدہ ہیں۔”

کابل کی کانفرنس میں عطیات دینے والے ملکوں نے افغانستان کے لیئے صدر اوباما کے اس منصوبے کی بھی تائید کی کہ 2014 تک افغانستان تمام فوجی کارروائیوں کا کنٹرول سنبھال لے گا۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل، اینڈرس فاگ راسموسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ ہدف قابلِ حصول ہے ۔ ان کی تنظیم کا منصوبہ ہے کہ اس عمل میں مدد کے لیئے ، اگلے سال اکتوبر تک 30,000 افغان سپاہیوں اور پولیس کے عملے کو تربیت دی جائے ۔ انہوں نے کہا:

“مجھے پورا اعتماد ہے کہ جیسے جیسے حالات بہتر ہوں گے افغان سیکورٹی فورسز بتدریج ذمہ داری سنبھالنے لگیں گی۔ لیکن یہ سب حالات پر منحصر ہے ۔ اپنا کام مکمل کرنے سے پہلے، ہم افغانستان کو نہیں چھوڑیں گے ۔”

اب تک یہ کام مشکل ثابت ہوا ہے ۔ افغانستان میں نیٹو کے لیئے جون کا مہینہ مہلک ترین تھا۔یہ کام کتنا مشکل ہے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ منگل کے روز نیٹو نے اعلان کیا کہ شمالی افغانستان میں ایک تربیتی مرکز میں ایک افغان سپاہی نے تربیت دینے والے دو سویلین امریکیوں اور ایک افغان رنگروٹ کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔یہ حملہ اسی قسم کے ایک اور واقعے کے ایک ہفتے بعد ہوا جس میں ایک افغان سپاہی نے ملک کے جنوبی حصے میں تین برطانوی سپاہیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

لیکن تجزیہ کار ہارون میر کہتے ہیں کہ سرکاری عہدے دار افغان رنگروٹوں کی پوری طرح چھان بین نہیں کرتے اور عسکریت پسند اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان واقعات سے ان لوگوں کو سخت دھچکہ لگا ہے جو مختصر مدت میں ایک بڑی افغان فورس بنانا چاہتے ہیں۔

کابل کے بعض شہری، جیسے عبدا لجبار ،خوش ہیں کہ افغانستان نے اس کانفرنس کی میزبانی کی۔ 1970 کی دہائی کے بعد یہ ملک میں سب سے بڑا بین الاقوامی اجتماع تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ کابل میں اتنی بڑی کانفرنس کا ہونا افغانستان کے لیئے بڑی کامیابی ہے ۔ لیکن مسٹر کرزئی کے سابق صدارتی حریف، عبد اللہ عبداللہ کہتے ہیں کہ ملک میں کانفرنسوں کا انعقاد کافی نہیں۔:

“سال کے اختتام پر ، حکومت اپنے کارناموں میں تین چیزوں کا شمار کرے گی: لندن کانفرنس، امن جرگہ، اور کابل کانفرنس۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان تین چیزوں سے عام آدمی کی زندگی پر کیا اثر پڑا ہے، اور مستقبل کے لیئے کیا امید پیدا ہوئی ہے۔”

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر صدر کرزئی کی حکومت کے لیئے خطرہ پیدا ہوا تو بین الاقوامی اتحاد کےلیئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہو گاکہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیئے عسکریت پسندوں کے ساتھ زیادہ سرگرمی سے مذاکرات کرے۔

XS
SM
MD
LG