رسائی کے لنکس

کابل ہوٹل حملہ سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کےعزم میں حائل نہیں ہوگا


کابل ہوٹل حملہ سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کےعزم میں حائل نہیں ہوگا

کابل ہوٹل حملہ سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کےعزم میں حائل نہیں ہوگا

ہلاک ہونے والوں میں افغان ہوٹل کے کارکن، پولیس عہدے دار اور ایک ہسپانوی مہمان شامل ہیں

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہےکہ کابل کےممتاز ہوٹل میں ہونے والی دہشت گردی جس میں 11شہری اور پولیس والے ہلاک ہوئے ملک میں سکیورٹی کے فرائض سنبھالنے کے حکومتی عزم پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔

بدھ کی صبح سویرےہونے والے اِس واقعے میں بھاری مسلح دہشت گردوں نےپانچ گھنٹو ں تک انٹرکونٹی ننٹل ہوٹل پر قبضہ جمائے رکھا جب سارے کے سارےنو حملہ آوروں نے یا تواپنے آپ کو بھک سے اُڑا دیا یا پھر اُنھیں نیٹو کی مدد سے افغان سکیورٹی فورسز نےموت کے گھاٹ اتار دیا۔

طالبان نے اِس واقعے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جومنگل کی رات گئے اُس وقت ہوا جب حملہ آوروں نے سخت پہرے کو توڑ کر کئی دھماکے کیے۔ ہلاک ہونے والوں میں افغان ہوٹل کے کارکن، پولیس عہدے دار اور ایک ہسپانوی مہمان شامل ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے بدھ کے روز انٹر کانٹی ننٹل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اِسے دہشت گردی کا ایک سنگین واقعہ قرار دیا۔ ایک بیان میں اُنھوں نے سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کو سراہتےہوئے کہا کہ اِس حملے کی وجہ سے افغان فورسز کو غیر ملکی فوجوں سے سکیورٹی کا کنٹرول منتقل کرنے کا عمل رک نہیں جائے گا۔

واشنگٹن میں، امریکی صدر براک اوباما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پہلے کے مقابلے میں افغان دارلحکومت زیادہ محفوظ اور افغان فورسز پہلے سے کہیں زیادہ باصلاحیت ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اِس طرح کے حملے کچھ مزید وقت تک جاری رہیں گے، کیونکہ اُن کے بقول، ہمارا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔

انٹرکونٹی ننٹل پرکیا جانے والا قبضہ جس میں آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے اُس کانفرنس کے موقعے پر ہوا جس میں افغانستان کی طرف سے سکیورٹی کے فرائض سنبھالنے کی تیاریوں پر دھیان مرتکز تھا۔ بدھ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے متعدد افغان صوبائی عہدے دار ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔

انٹرکونٹی ننٹل جسے ساٹھ کی دہائی میں ایک پہاڑی پر قائم کیا گیا تھا وہ کئی سالوں تک افغان دارالحکومت کا اہم ہوٹل رہ چکا ہے جہاں غیر ملکی رہا کرتے تھے۔ سکیورٹی سے متعلق افغان عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اِس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ سکیورٹی کی متعدد چوکیوں سے گزر کر شدت پسندکس طرح ہوٹل کے اندر پہنچے۔

کابل کے ہوٹل پر پچھلی بار 2008ء میں حملہ ہوا تھا جب دہشت گردوں نے شہر کے مرکز میں پُر آسائش سیرینا ہوٹل پر دھاوا بول دیا تھا، جس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG