رسائی کے لنکس

صدر کرزئی کے دورے سے امریکہ افغان تعلقات میں بہتری آئے گی


افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی وزیر ِ خارجہ ہلری کلنٹن

افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی وزیر ِ خارجہ ہلری کلنٹن

افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے امریکہ کے دورے کا آغاز کردیا ہے۔ دونوں ممالک کے عہدے داروں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ان کے اس دورے سے شورش اور مسائل میں گھرے ہوئے اس ملک کے ساتھ امریکی تعاون میں اضافہ ہوگا۔

افغان صدر حامد کرزئی کو اپنے دورے کے آغاز کے موقع پر گرم جوشی سےخوش آمدید کہا گیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے بعد سے امریکہ اور افغانستان کے درمیان میں کشیدگی اور تناؤ کی سی صورت حال چلی آرہی تھی۔ کیونکہ امریکہ نے ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور فراڈ کے الزامات لگائے تھے اور ردعمل کے طورپر صدر کرزئی نے مغرب کو نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے طالبان سے ملنے کی بات کی تھی۔

افغان عہدے دار طالبان کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی شکایت کرتے ہیں ۔ جبکہ افغان حکومت اگلے سال جولائی تک ملک سے امریکی فوجوں کی واپسی کے فیصلے کو کابل سے ان کے اقتدار کے خاتمے سے تعبیر کرتی ہے۔

تاہم امریکی وزیر ِ خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان کے مسئلے پر اپنے عہدسے وابستہ رہے گا۔ انہوں نے افغان حکومت اورعوام کی قربانیوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ گذشتہ چند برسوں میں افغانستان میں ہونے والی پیش رفت مثبت تھی ۔ افغان عوام کئی عشروں سے ناقابل ِ یقین حالات کا ہدف بنے ہوئے ہیں ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ وہاں طویل مدت کے لیے صبر اور پارٹنر شپ کی ضرورت ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے واشنگٹن کے والٹر ریڈ آرمی ہاسپٹل میں زخمی امریکی فوجیوں کی عیادت کرتے ہوئے کہا کہ میں ان لوگوں کی عزت اور قدر کرتا ہوں اور میرے پاس ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے دشمن کے خلاف لڑ رہے ہیں جو ہماری، ہمارے بچوں، ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے معاشرے کی بھی دشمن ہے۔

انہوں نے امریکہ کی فوجی اور مالی امداد کا بھی شکریہ ادا کیا۔

افغانستان اور امریکہ کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کبھی کبھی بھی آجاتی ہے مگر دوستی کا یہ رشتہ بہت مضبوط بنیادوں پراستوار ہے۔

وزیر خارجہ کلنٹن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اس سال کے آخر تک اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کے ایک معاہدے پر متفق ہو جائیں گے جس سے امریکہ کےساتھ افغانستان کے تعلقات کی نوعیت امریکہ کے دیگر اتحادیوں جیسی ہوجائے گی۔

صدر کرزئی صدر اوباما کے ساتھ اپنی ملاقات میں دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ افغان پارلیمنٹ یا لویا جرگہ کے حوالے سے بھی بات کریں گے۔

طالبان کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ان میں سے ایسے جنگ جوؤں کو نیشنل سیکیورٹی فورسز میں شامل کرنے کے بارے میں بھی سوچا جارہاہے جو طالبان کا ساتھ چھوڑ کر امن کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہوں۔ وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ طالبان میں سے جو عناصر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں انہیں تشدد سے دست بردار ہونا ہوگا اور افغان آئین کی پاسداری کرنے کےساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کا احترام بھی کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG