رسائی کے لنکس

کرزئی دورہ: کشیدہ تعلقات مستحکم، لیکن اختلافات اب بھی باقی

  • گیری ٹامس

افغانستان میں مزید 30ہزار فوجی بھیجنے کے اعلان کے وقت، صدر اوباما نے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا مشروط اعلان کیا تھا، یعنی اگر سکیورٹی کے حالات بہتر رہے تو پھر جولائی 2011ء سے واپسی شروع ہوجائے گی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا چار روزہ دورہٴ امریکہ جمعے کو ختم ہوگیا۔ طالبان کے مضبوط گڑھ قندھار میں امریکی افواج کی ایک بڑی کارروائی شروع ہونے والی ہے اور اِس سے قبل ہونے والے اس دورے میں نہ صرف اِس کارروائی پر یکجہتی کا اظہار کیا گیا بلکہ افغانستان اور امریکہ کے مستقبل کے تعلقات پر بھی تفصیلی تبادلہٴ خیال کیا گیا۔

پچھلے سال جب صدر اوباما نے افغانستان میں مزید 30ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ اُس کے ساتھ اُنھوں نے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا مشروط اعلان کیا تھا، یعنی اگر سکیورٹی کے حالات بہتر رہے تو پھر جولائی 2011ء سے واپسی شروع ہوجائے گی۔

گانگریس کے تحقیقات سے متعلق ادارے کے تجزیہ کار کین کیزمن کا خیال ہے کہ صدر کرزئی کا موجودہ دورہ دیگر امور کے علاوہ اس یقین دہانی کے لیے بھی تھا کہ امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد بھی امریکہ افغانستان کے بارے میں وعدوں کو نبھاتا رہے گا۔

اِس دورے کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ طویل المیعاد تعلقات کے وعدوں کی یقین دہانی حاصل کی جائے۔ 2011ء میں امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد سے افغانستان کے ساتھ امریکی شراکت داری بدستور جاری رہے گی۔ کرزئی درحقیقت یہ دیکھنے آئے تھے کہ کیا 2011ء کے بعد امریکہ افغانستان کو یک و تنہا چھوڑ دے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ اُنھیں اِس کی یقین دہانی کرادی گئی ہے۔ صدر اوباما اور دوسرے متعلقہ حکام نے افغان رہنما کو بتایا کہ یہ تعلقات طویل مدت کے لیے ہیں۔

واشنگٹن میں ہونے والے ایک اجتماع میں وزیرِ خارجہ کلنٹن اور صدر کرزئی ایک ساتھ آئے۔ اِس موقعے پر وزیرِ خارجہ کلنٹن نے کہا کہ افغانستان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بعد بھی یہ سٹریٹجک شراکت داری جاری رہے گی۔

اُن کے الفاظ میں وزیرِ خارجہ کلنٹن کہہ رہی تھیں کہ آنے والے وقتوں میں فوجوں کی واپسی کے بعد بھی ہماری پائیدار شراکت داری جاری رہے گی۔ ہم افغانستان کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس اعلیٰ سفارتی مفاہمت سے قبل امریکہ اور افغانستان کے لیڈروں کے درمیان کسی قدر تناؤ دیکھا جارہا تھا۔

بہر حال اب دونوں ملکوں کے لیڈروں کا موقف ہے کہ دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات میں اختلافات معمول کی بات ہے ہر چند کہ ابھی ایک مسئلے پر دونوں ملکوں کے مؤقف میں خاص فرق ہے مستقبل کے افغانستان میں طالبان کی موجودگی کے بارے میں افغان لیڈر اور امریکی لیڈر مختلف ذاویہٴ نظر رکھتے ہیں۔

صدر کرزئی کا خیال ہے کہ جب ہزاروں طالبان کو ہم اپنے ساتھ دوبارہ شامل کر رہے ہیں یہ نظریاتی طور پر ہمارے مخالف نہیں ہیں۔ دیہاتوں میں رہنے والے نوجوان امریکہ سے نفرت نہیں کرتے بلکہ اگر اُنھیں موقع دیا جائے تو وہ بخوشی امریکہ آنے کے لیے تیار ہیں۔

صدر کرزئی طالبان قیادت کے ساتھ مصالحت کرنے پر آمادہ ہیں۔ رینڈ کارپوریشن کے تجزیہ کار جیسن کیمپ بیل کا خیال ہے: ‘صدر کرزئی نے مئی کے اواخر میں ایک امن جرگہ بلایا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ طالبان کے چند اعلیٰ اور درمیانے لیڈروں سے رابطوں کو استوار کیا جائے۔

دوسری طرف وزیرِ خارجہ کلنٹن کا خیال ہے کہ اگلے مرحلے کے نتائج کے بارے میں پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اُن میں کچھ لوگ صدر کرزئی کی بات سننا چاہتے ہوں اور کچھ لوگ نہیں۔

بہرحال طالبان لیڈروں کو جرگے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اب یہ نہیں معلوم کہ وہ شرکت کریں گے یا نہیں کیونکہ جوگہ تقریباً اُسی وقت شروع ہو رہا ہے جب قندھار میں امریکہ کی فوجی کارروائی ہو رہی ہوگی اور اِس کی کامیابی کے نتائج اِس سال کے آخر تک سامنے آئیں گے۔

XS
SM
MD
LG