رسائی کے لنکس

افغانستان میں امریکی فوج کی تعیناتی کا معاملہ


افغان صدر حامد کرزئی جمعے کو وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے۔

ایک ایسے وقت میں جب افغان صدر حامد کرزئی تین روز میں امریکی صدر براک اوباما سے واشنگٹن میں ملاقات کرنے والے ہیں، وائیٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 2014 ءمیں جب افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج واپس چلی جائیں گے، امریکہ اپنی فوج کو مکمل طور پر واپس نکالنے یا چند فوجی دستوں کو وہاں رکھنے جیسے تمام معاملات پر غور کر رہا ہے۔

امریکہ اور افغانستان سیکورٹی کے حوالے سے ایک ایسے دو طرفہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کر رہے ہیں، جس میں 2014 ءکے بعد بھی افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کا معاملہ بھی شامل ہے۔

میڈیا میں آنے والی چند حالیہ رپورٹس میں کسی امریکی اہلکار کا نام لیے بغیر یہ کہا جا رہا ہے کہ صدر اوباما کو امریکی فوجی کمانڈروں کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ افغانستان میں2014 ءکے بعد بھی چھ ہزار سے بیس ہزار فوجی دستوں کی صورت میں وہاں امریکی موجودگی برقرار رکھی جائے۔

کلک کیجئیے:


لیکن، رپورٹس میں یہ کہا جارہا ہے کہ وائیٹ ہاؤس افغانستان میں زیادہ فوج کی بجائے نسبتاً کم فوج رکھنے پر غور کر رہا ہے، تقریباً تین ہزار فوجی دستے ۔۔۔ یہ فوجی دستے افغان فوجیوں کو القاعدہ سے بچنے اور افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونےسے بچانے کے لیے ٹریننگ اور مدد فراہم کریں گے۔

اوباما انتظامیہ کے سینئیر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان میں کم فوجی دستوں کی تعیناتی سے بڑا سوال وہاں پر امریکی اہداف پورے ہونے کا ہے۔

بین روڈز اوباما انتظامیہ کے ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’ صدر اوباما اس معاملے کو افغانستان میں ایک خاص حد تک فوجی دستے برقرار رکھنے کی صورت میں نہیں دیکھتے۔ افغانستان اور امریکہ کے درمیان سیکورٹی سے متعلق اس باہمی معاہدے کا مقصد افغانستان میں فوجی دستوں کی تعیناتی نہیں بلکہ افغانستان کو القاعدہ کے استعمال سے بچانے اور افغان فوجوں کو اس حوالے سے ٹریننگ دینا ہے‘۔

پچھلے سال افغانستان سے 30000 فوجوں کی واپسی کے بعد اب افغانستان میں 68000 کے قریب امریکی فوجی دستے موجود ہیں۔ اور منصوبے کے مطابق افغانستان سے اس سال کے آخر تک بتدریج فوجی دستوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ جس کے بعد افغانستان کا انتظام افغان فوجی دستے سنبھال لیں گے۔

صدر اوباما کے ڈپٹی اسسٹنٹ اور جنوبی ایشیاٴ کے حوالے سے ان کے رابطہٴ کار ڈک لیوٹ نے حالیہ کچھ عرصے میں میڈیا میں افغانستان میں موجود فوجی دستوں کے بارے میں آنے والی خبروں کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔ انکا کہنا تھا، ’ اگر آپ یہ فرض کریں کہ ہمیں افغانستان میں القاعدہ کے خلاف کامیابی حاصل ہو رہی ہے تو ممکن ہے کہ ہمارا مشن وہاں دو سال سے بھی کم کا رہ جائے۔ اور اگر آپ یہ فرض کریں کہ ہم افغان پولیس کو ٹریننگ دینے میں کامیاب رہے اور افغانستان نسبتا بہتری کی جانب رواں دواں ہے، تو یقینا اسے ہماری کم مدد کی ضرورت ہوگی‘۔

لیوٹ کا کہنا تھا کہ امریکی اور افغان فوجی دستوں کے اتحاد کی وجہ سے القاعدہ کے خلاف بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لیکن ان کے الفاظ میں، ’کام ابھی تکمیل کو نہیں پہنچا ‘۔ ان کے مطابق ابھی بھی افغان فوجیوں کی تربیت نامکمل ہے۔

حال ہی میں، طالبان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر 2014ء کے بعد بھی امریکی فوجیں افغانستان میں موجود رہیں، تو وہ افغان حکومت سے جنگ جاری رکھیں گے۔

صدر کرزئی منگل کو واشنگٹن پہنچ چکے ہیں اور یہاں پر مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ جن میں امریکی حکام کے ساتھ بات چیت اور زخمی امریکی فوجیوں کی عیادت بھی شامل ہے۔

جمعے کو صدر کرزئی اور صدر اوباما کے درمیان ہونے والی ملاقات میں امریکی اور افغان حکام بھی شامل ہوں گے، جس کے بعد ظہرانہ ہوگا اور پریس کانفرنس کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG