رسائی کے لنکس

القاعدہ اور کشمیری عسکریت پسندون کے درمیان مبینہ روابط، عمر عبد اللہ نے شوشہ قرار دے دیا


القاعدہ اور کشمیری عسکریت پسندون کے درمیان مبینہ روابط، عمر عبد اللہ نے شوشہ قرار دے دیا
القاعدہ اور کشمیری عسکریت پسندون کے درمیان مبینہ روابط، عمر عبد اللہ نے شوشہ قرار دے دیا

بھارتی کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبد اللہ نے پیر کو سری نگر میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت یا سکیورٹی اداروں کو تاحال کوئی ایسی شہادت یا ثبوت نہیں ملا ہے جو القاعدہ اور کشمیری عسکریت پسندوں کے درمیان روابط کو ظاہر کرے۔

اُنھوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن نے یہ ضرور کہا تھا کہ کشمیر القاعدہ کے تکمیل طلب پیش نامے میں شامل ہے ’لیکن مسلح افواج اور امن و قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں پر مشتمل یونیفائیڈ کمانڈ کے اجلاسوں میں جِن کی میں صدارت کرتا ہوں اب تک میرے سامنے ایسا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے جو القاعدہ اور بھارتی کشمیر میں جاری جنگ جوئی کے درمیان رابطے کی طرف اشارہ کرتا ہو۔‘

امریکی فورسز کے ہاتھوں بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھارتی ذرائعِ ابلاغ میں القاعدہ اور کشمیری عسکریت پسندوں کے درمیان رشتے کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ بعض سیاسی حلقے اِن خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

چند دِن پہلے کینیڈا کے ایک اخبار کے حوالے سے بھارتی ذرائعِ ابلاغ نے یہ خبر بھی دی تھی کہ بن لادن ایبٹ آباد میں جِس مکان میں مقیم تھے وہ بھارتی کشمیر کی سب سے بڑی عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کی ملکیت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عمر عبد اللہ نے کہا کہ پاکستان سے یہ بیانات جاری کیے گئے ہیں کہ بھارت وہاں مبینہ طور پر پناہ لینے والے اپنے مطوب افراد کے خلاف اُسی طرح کی کارروائی کرنے کی غلطی نہ کرے جس طرح کی کارروائی امریکیوں نے بن لادن کے خلاف کی۔

عمر عبد اللہ نے کہا کہ، ’ ہم اِس طرح کے ’مِس اینڈوینچر‘ کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہے ہیں۔ ہماری خارجہ سکریٹری نے یہ واضح کردیا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔‘

وزیرِ اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کا پرانہ تنازعہ بات چیت کے ذریعے ضرور حل ہوگا۔

اُنھوں نےزور دیا کہ وہ مسئلے کا ایک ایسا حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کردیں جو بالخصوص کشمیریوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

XS
SM
MD
LG