رسائی کے لنکس

کشمیر میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے نجی شعبے سے تعاون کی اپیل

  • روشن مغل

کشمیر میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے نجی شعبے سے تعاون کی اپیل

کشمیر میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے نجی شعبے سے تعاون کی اپیل

وادی نیلم ، باغ ، پلندری ، کو ٹلی ، میرپور اور بھمبر کے اضلاع میں موجود قلعے اور دیگر مقامات کی صورت حال زیادہ مخدوش ہے۔حالانکہ کہ یہ علاقو ں میں زلزلے سے محفوظ رہے تھے۔سب سے زیادہ قلعے پاکستانی کشمیر کے علاقے میرپو ر میں ہیں جن کی تعدادتین ہے۔ جن میں سے قلعہ برجن قلعہ رام کورٹ کی حالت کافی مخدوش ہے ۔ حکومت نے تاریخی مقامات کی نشاندہی کر کے انہیں قومی اثاثہ قرار دیدیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تاریخی اثاثوں کو تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

محکمہ آثارقدیمہ و سیاحت کے حال ہی میں تعینات ہونے والے سیکرٹری نعیم شیراز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مالی مشکلات کے باعث آثارقدیمہ کی بحالی اور تحفظ کا کوئی بڑا منصوبہ زیر کا ر نہیں ہے۔ ”ان اثاثوں کے تحفظ اور بحالی کے لئے ہم نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں تاکہ وہ ہماری مدد کر سکے۔“

تاہم آثارقدیمہ سے متعلق تنظیموں اور ماہرین کا موقف ہے کہ حکام کی عدم دلچسپی کے باعث پاکستانی کشمیر کے مختلف اضلاع میں ثقافتی ورثہ شکستگی کا شکار ہے۔ ان تاریخی عمارتوں میں صدیوں پرانی بدھ مت یونیورسٹی، گیارہ قلعے ، تین بارہ دریاں اور متعدد سرائے و دیگر تاریخی مقامات شامل ہیں۔

پاکستانی کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں واقعے لال قلعے کو اکتوبر 2008ء زلزلے سے شدید نقصان پہنچا اور اس کی دیواریں اور چھتیں منہدم ہوگئیں۔ لیکن ساڑھے پانچ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ بدحالی حکام کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکی۔

کشمیر میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے نجی شعبے سے تعاون کی اپیل

کشمیر میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے نجی شعبے سے تعاون کی اپیل

زلزلے کی وجہ سے قلعے کے اطراف میں منہدم ہونے والی عمارتوں کی جگہ نئی اور دیدہ زیب عمارتیں بن چکی ہیں۔ لیکن مرکزی شہر میں ہونے کے باوجود زلزلے کے بعد کثیرالملکی امداد سے شروع ہونے والے بحالی و تعمیر نو کے عمل میں اس سمیت تمام تاریخی ورثوں سے متعلق کوئی کو منصوبہ نہیں بنایا گیا۔

یہ قلعہ شکست و ریخ کے باوجود آج بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بناہوا ہے جس کی وجہ اس کادریائے نیلم کے کنارے واقع ہونا ہے۔مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اس کے کچھ حصے پر تجاوزات بھی تعمیر کر دی گئی ہیں ۔اس کی تعمیر1492ء میں شروع کی گئی۔

وادی نیلم ، باغ ، پلندری ، کو ٹلی ، میرپور اور بھمبر کے اضلاع میں موجود قلعے اور دیگر مقامات کی صورت حال زیادہ مخدوش ہے۔حالانکہ کہ یہ علاقو ں میں زلزلے سے محفوظ رہے تھے۔سب سے زیادہ قلعے پاکستانی کشمیر کے علاقے میرپو ر میں ہیں جن کی تعدادتین ہے۔ جن میں سے قلعہ برجن قلعہ رام کورٹ کی حالت کافی مخدوش ہے ۔ حکومت نے تاریخی مقامات کی نشاندہی کر کے انہیں قومی اثاثہ قرار دیدیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG