رسائی کے لنکس

ناگہانی آفات سے بچاؤ کے لیے ہزاروں افراد کو تربیت کی فراہمی

  • روشن مغل

رضاکاروں کی طبی امداد فراہم کرنے کی تربیت دی جارہی ہے

رضاکاروں کی طبی امداد فراہم کرنے کی تربیت دی جارہی ہے

پاکستانی کے زیر انتظام کشمیر میں مقامی لوگوں کو تربیت کی فراہمی کے علاوہ مختلف علاقوں میں زلزلے سے خبردار کرنے والے آلات بھی نصب کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ناگہانی آفات کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ہزاروں افراد کو تربیت اور علاقے میں زلزلے سے با خبر رہنے کے لیے آلات بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔

پاکستانی کشمیر کے آفات سماوی سے بچاؤ کے ریاستی ادارے ایس ڈی ایم اے (اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کے مطابق زلزلے اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے اب تک ساڑھے چھ ہزار سے زائد افراد کو تربیت مہیا کی گئی ہے جن میں بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل ہیں۔

ایس ڈی ایم اے کے سربراہ سید ظہور حسین گیلانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے پاکستانی کشمیر کے تمام دس اضلاع میں آفات سماوی کے خطرات سے آگاہی اور ان سے بچاؤ کے لیے تربیت دی جا رہی ہے۔

’’ہمارا علاقے کو ہندو کش اور ہمالیائی پہاڑی سلسلے میں واقع ہونے کی وجہ سے موسمیاتی شدتوں کاسامنا ہے جس کی وجہ سے آئے روز سیلاب اور برف اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور فالٹ لائینوں کی موجودگی کی وجہ سے زلزلے کے خطرات سے بھی دوچار ہے۔ اس لیے یہاں کے باسیوں کو ان سے بچاؤ کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے گاؤں کی سطح پر کمیٹیاں بنا کر تربیت مہیا کی جا رہی ہے۔ ان میں ہنگامی صورت حال میں بچاؤ۔ محفوظ مقامات پر منتقلی اور ابتدائی طبی امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔‘‘


ظہور حسین گیلانی

ظہور حسین گیلانی

انہوں نے بتایا کہ ہنگامی صورت حال میں کام کرنے والے اداروں کو واقعات کی بروقت اطلاع اور باہمی ربط سے امداد کی فراہمی اور ہم آہنگ و بروقت ریلیف اور ریسکیو آپریشن کے لیے ایمرجنسی رسپانس سینٹر قائم کیا جا رہا ہے جب کہ کسی ناگہانی آفت کی صورت میں فوری امداد کے لیے ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تیار کی گئی ہیں۔

ظہور گیلانی نے بتایا کہ جرمنی کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے تعاون سے زلزلے سے پیشگی اطلاع کے لیے ایک آلہ تاحال مظفرآباد اور باغ اضلاع کے چھ مقامات پر نصب کیا گیا ہے جو زلزلے سے تیس سیکنڈ قبل زمین کے اندر ہونے والے ارتعاش سے خبردار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بارے میں لوگوں کو تربیت مہیا کی جا رہی ہے اور کوشش ہے کہ ’سیکٹی‘ نام کا یہ آلہ تمام علاقوں میں نصب کیا جائے۔

ظہور گیلانی نے کہا کہ ان کا ادارہ چاہتا ہے کہ کشمیر کے ہر فرد کو ناگہانی آفات سے بچاؤ کی تربیت مہیا کی جائے۔ لیکن اس کے لیے حکومت کے پاس مالی وسائل نہیں ہیں۔ تاہم غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے یہ جاری رہے گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور اس سے ملحقہ خیبر پختونخواء میں 2005ء میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں 75 ہزار افراد لقمہء اجل بن گئے۔
XS
SM
MD
LG