رسائی کے لنکس

کشمیریوں کی سوچ میں تبدیلی ،نصف سے زائد آزاد ی کے حامی


رواں ماہ یعنی ستمبر میں بھارت کے ایک اور مشہور میڈیا گروپ کی جانب سے اسی قسم کا ایک اور سروے منعقدہوا جس میں چھیاسٹھ فیصد افرادنے کشمیر کو آزاد ملک کی حیثیت سے دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس لحاظ سے آزادی کے خواہشمندافراد کی تعداد میں تین سال کے دوران 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران ناصرف آزادی کی تحریک مزید زور پکڑ گئی ہے بلکہ کشمیریوں کی سوچ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ جدوجہد آزادی کے طریقے بھی بدلنے لگے ہیں اور اس کی حالیہ مثال وہاں ہونے والے تازہ احتجاجی سلسلے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آزادی کی یہ نئی لہر بھارت کے لئے پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ سن دوہزار سات میں مجموعی آبادی کے نصف سے بھی کم لوگ ایسے تھے جو کشمیر کو آزاد ریاست کی حیثیت سے دیکھنے کے متمنی تھے تاہم آج اس تعداد میں انیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے.
کشمیر کو بطور آزاد مملکت دیکھنے والوں کی تعداد میں 19 فیصد اضافہ
آج سے تین سال پہلے یعنی اگست 2007ء میں دونوں ممالک کے یوم آزادی کی مناسبت سے پاکستان اور بھارت کے معروف الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا گروپس نے ایک سروے کیا ۔ اس سروے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی راہ میں حائل مسائل پر عوامی رائے جاننا تھا ۔ سروے میں کشمیر کے مسئلے کو بنیادی اہمیت حامل تھی۔کشمیر کی حیثیت سے متعلق سینتالیس فیصد کشمیریوں کی خواہش تھی کہ اس کا الحاق بھارت اور پاکستان کے ساتھ ہونے کے بجائے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت سے ہونا چاہئے۔
رواں ماہ یعنی ستمبر میں بھارت کے ایک اور مشہور میڈیا گروپ کی جانب سے اسی قسم کا ایک اور سروے منعقدہوا جس میں چھیاسٹھ فیصد افرادنے کشمیر کو آزاد ملک کی حیثیت سے دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس لحاظ سے آزادی کے خواہشمندافراد کی تعداد میں تین سال کے دوران 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سروے کے مطابق دونوں ممالک میں بہت ساری قدریں مشترک ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے شہری اپنے اپنے ممالک کی اقتصادی صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔ چھتیس اعشاریہ نو فیصد پاکستانی اور چھیالیس اعشاریہ سات فیصد بھارتیوں کی نظر میں دونوں ممالک کی معیشت غیر اطمینان بخش ہے تاہم ان افراد نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے سالوں میں دونوں ممالک کی اقتصادی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔
دوسری جانب رواں سال گیارہ جون سے شروع ہونے والے کشمیریوں کے احتجاجی سلسلے تاحال جاری ہیں اور ان میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ اس صورتحال پر بھارت کے مایہ ناز صحافی کلدیپ نیر کا کہنا ہے کہ" وقت کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے جذبات کی حدت اور شدت دنوں بڑھ گئی ہیں۔ وہ اب آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہورہے۔لہذا اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے وقت میں مزید افراد کشمیر کو آزاد مملکت کی حیثیت سے دیکھنے کے آرزومند ہوں گے"
پاکستان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی نذیر ناجی کا کہنا ہے کہ" کشمیری عوام اب پاکستان اور بھارت دونوں پر اعتماد نہیں کر رہے۔ وہ اس فیصلے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے تنازعہ کشمیر حل نہیں کر سکیں گی"
جدوجہد آزادی کی سوچ اور طرز میں تبدیلی
پچھلے کچھ مہینوں سے کشمیر میں جس قسم کے احتجاج ہورہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مبصرین رائے دے رہے ہیں کہ کشمیر یوں کی طرف سے جو جدوجہد اس وقت جاری ہے وہ 1989ء کی کشمیر کی صورتحال سے یکسر مختلف ہے۔ کراچی کے ایک کوہنہ مشق صحافی عبدالشکور نظامانی کا کہنا ہے کہ" بیس سال پہلے عسکریت پسند بزور طاقت اپنے مطالبات منوانے کے حق میں تھے اور اسی وجہ سے بم دھماکے ، فوج و پولیس پر حملے اور تخریب کاری کے واقعات کا سہارہ لیا جاتا تھا تاکہ دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی جاسکے تاہم اسے خاظر خواہ عوامی تائید حاصل نہیں تھی جبکہ اب جو احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں وہ پرامن تو ہیں انہیں عوام کی بھی بھرپور تائید حاصل ہے۔ اب یہ عوامی حقوق کے لئے لڑی جانے والی عوامی مہم ہے"
اس وقت کشمیر میں جو احتجاجی سلسلے جاری ہیں ان میں اکثریت پڑھے لکھے کشمیری نوجوانوں کی ہے جو انٹرنیٹ اور دیگر جدید تریقوں سے اپنی مہم کو موثر انداز میں لوگوں تک پہنچانے کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ کشمیر سے فوجی دستبرداری کے حق میں ہیں اس لئے فوج کے خلاف ریلیاں نکالتے ہیں۔ ان کی مانگیں سیاسی اورفطری ہیں ۔ انہوں نے اپنے حقوق کے لئے وہی سیاسی طریقے اپنائے ہیں جو دنیا کے دوسرے ممالک میں اپنائے جاتے ہیں جن میں عوامی جلسے ، جلوس ریلیاں اور مظاہرے شامل ہیں۔
نئی نسل کی شرکت
ایک اور مبصر کے مطابق یہ کشمیر میں نئی نسل کی عوامی جدوجہد ہے جو پاکستان سے متاثر ہوکر پروان نہیں چڑھی جیسا کہ بھارتی حکومت ہمیشہ سے یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ پاکستان کشمیریوں کو اکسا رہا ہے ۔ دراصل کشمیریوں کی جانب سے اپنے حقوق کی جدوجہد اب نئے دور میں داخل ہوگئی ہے جو بھارت کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ اس تحریک میں عوامی شرکت وقت کے ساتھ ساتھ نہایت تیز رفتاری سے ہوتی ہے جودراصل انقلاب کی طرف اشارہ کرتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ عوامی انقلاب کے آگے بندھ نہیں باندھے جاسکتے۔

XS
SM
MD
LG