رسائی کے لنکس

علاقے میں پائے جانے والے دیسی جانور وں سے دودھ بہت تھوڑی مقدار میں حاصل ہوتا ہے ۔جس کی وجہ سے دودھ کی قلت کا سامنا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں غربت میں کمی کے لیے مویشی پالنے اور زرعی کاروبار کے فروغ کے لیے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت دیہی علاقوں میں بینکوں کے ذریعے کسانوں کو ڈیری فارمز کے قیام اور زیادہ نفع بخش فصلیں کاشت کر نے کے لیے قرضے مہیا کیے جائیں گے۔

پاکستانی کشمیر کے محکمہ امور حیوانات کے ناظم اعلیٰ محمد اشفاق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ منصوبے کے تحت دیہی علاقوں میں کسانوں کو پانچ بھینسوں یا سات گائے پر مشتمل ڈیری فارم قائم کرنے کے لیے سات لاکھ روپے تک بینک کے ذریعے قرض مہیا کیا جائے گا جس کی واپسی اقساط میں ہو گی۔ کسان کو صرف قرض کی اصل رقم ادا کرنا پڑے گی۔ جبکہ اس پر لگنے والا سود محکمہ امور حیوانات ادا کر ے گا۔

انہوں نے بتایا کہ علاقے میں پائے جانے والے دیسی جانوروں سے دودھ بہت تھوڑی مقدار میں حاصل ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے دودھ کی قلت کا سامنا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جانوروں کی مصنوعی نسل کشی کی جا رہی ہے جس کے لیے 65 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن کسانوں کی طرف سے ان کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

محمد اشفاق نے امید ظاہر کی اس منصوبے سے گوشت اور دودھ کی قلت کم ہونے کے علاوہ دیہی علاقوں کی معیشت بہتر ہو گی۔ ”کشمیر میں سب سے زیادہ پالا جانے والا جانور بکری ہے۔ لیکن یہ دودھ بہت کم دیتی ہے۔ بکریوں میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے امریکہ یا کینیڈا سے زیادہ دودھ دینے والی بکری کی مصنوعی افزائش نسل کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔“

پاکستانی کشمیر کے محکمہ زراعت کی طرف سے بھی دیہی علاقوں میں غربت میں کمی کے لیے زیادہ نفع بخش فصلوں، پودوں اور سبزیوں کی کاشت بڑھانے کے لیے ایک ایسے ہی منصوبے کاآغاز کیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی 88 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جن کا گزر بسر مویشی پالنے اور زراعت پر ہے۔ تاہم فی کس لینڈ ہولڈنگ یا زمینی ملکیت کم ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG