رسائی کے لنکس

بھارت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ کشمیر پر فوج کشی اُس وقت کے کشمیری حکمرانوں کی درخواست پر کی گئی تھی

نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے ہفتے کے روز بڑی تعداد میں کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی۔

ہر سال 27 اکتوبر کو کشمیری 1947ء کی فوج کشی کی یاد میں ’یوم سیاہ‘ مناتے ہیں۔

لندن میں گزشتہ برس ’یوم سیاہ‘ کے موقعے پر نکلنے والی ریلی میں لوگوں کی بڑی تعداد کے باعث اسے ملین مارچ کا نام دیا گیا تھا۔

25 اکتوبر کو کشمیریوں نے نیویارک میں بھارتی مشن اور اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے یہ مظاہرہ کیا۔

بھارت کا مؤقف رہا ہے کہ کشمیر پر فوج کشی اُس وقت کے کشمیری حکمرانوں کی درخواست پر کی گئی تھی، ’تاکہ پاکستان سے درآئے مجاہدین کی لوٹ مار سے شہریوں کو بچایا جاسکے اور امن امان قائم کیا جاسکے‘۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے آئین کے مطابق، کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے، جب کہ اور وہاں تواتر سے ہونے والے انتخابات میں عوام کی منتخب حکومت قائم ہے۔

ایک طویل عرصے بعد، اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر ہونے والے اس مظاہرے میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

ریلی اتوار کی دوپہر اقوام متحدہ میں بھارتی مشن کی عمارت کے سامنے جمع ہوئی اور شرکا نے ’آزادی‘ کے حق میں نعرے بازی کی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود کی قیادت میں مظاہرین بعد میں مین ہٹن کی مختلف شاہراہوں پر گشت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے پہنچے، جہاں جلسہٴعام منعقد کیا گیا۔

ریلی کے شرکا میں کشمیر اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد موجو د تھے۔

ادھر، کشمیریوں کی ریلی کے بارے میں ردعمل کے لئے، واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اہل کاروں نے بیان دینے سے گریز کیا۔

XS
SM
MD
LG