رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن

  • یوسف جمیل

فضائی نگرانی کے لئے فوجی ہیلی کاپٹر اور بغیر پائلیٹ کے ڈرون طیارے استعمال کئے گئے، جبکہ جدید اسلحے سے لیس پیادہ فوج نے گاؤں گاؤں جا کر مکانوں، دکانوں اور دوسری عمارتوں، میوہ باغات اور کھیتوں کی باریک بینی سے تلاشی لی

بھارتی مسلح افواج نے جمعرات کو نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوب میں واقع ضلع شوپیان کے تقریبا"دو درجن دیہات کو گھیرے میں لیکر مسلمان عسکریت پسندوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن کیا۔

اس کارروائی میں بھارتی فوج کے ساتھ وفاقی پولیس فورس ’سی آر پی ایف‘ اور مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ نے بھی حصہ لیا۔ ٖ

فضائی نگرانی کے لئے فوجی ہیلی کاپٹر اور بغیر پائلیٹ کے ڈرون طیارے استعمال کئے گئے، جبکہ جدید اسلحے سے لیس پیادہ فوج نے گاؤں گاؤں جا کر مکانوں، دکانوں اور دوسری عمارتوں، میوہ باغات اور کھیتوں کی باریک بینی سے تلاشی لی۔

شام کو مشتبہ شدت پسندوں نے ٹیکسی پر سوار فوجیوں کو نشانہ بنایا، جب ٹیکسی کا گزر اِمام صاحب کے علاقے سے ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حملہ گھات میں بیٹھے عسکریت پسندوں نے کیا۔ حملے میں، ٹیکسی کا ڈرائیور، نذیر احمد شیخ ہلاک ہوگیا، جبکہ تین فوجی شدید زخمی ہوئے۔

سرینگر میں بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے بتایا ہے کہ فوج نے حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کردی ہے اور طرفین کے درمیان آخری اطلاع آنے تک گولیوں کا تبادلہ جاری تھا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کی فوج نے وضع شدہ طریقہ کار (سٹنڈرڈ آپریشنل پروسیجر) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آٹھ پبلک ٹرانسپورٹ سومو گاڑیاں سپاہیوں کو لانے لیجانے کے لئے کرایہ پر لی تھیں۔

عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن ایک بینک کیش وین پر حملے میں پانچ پولیس والوں اور دو بینک ملازمین کی ہلاکت، ایک عدالتی عمارت کی حفاظت پر مامور اہلکاروں سے اسلحہ چھین لینے اور دو روز کے اندر تین بینک ڈکیتیاں پیش آنے کے بعد شروع کیا گیا۔

عہدیداروں نے ان تمام واقعات کے لئے عسکریت پسندوں کو ذمہ دار ٹھرایا ہے۔ اس سے پہلے علاقے میں سرگرم عسکریت پسندوں نے کچھ ایسی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال دی تھیں جن میں انہیں جنوبی کشمیر میں بے خوف ہو کر میوہ باغات اور سڑکوں پر گھومتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوجی آپریشن کا حکم بھارتی بری فوج کے سربراہ جنرل بِپن راوت نے سرینگر میں علاقائی کمانڈروں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران دیا تھا۔

دریں اثناء وادئ کشمیر میں طالبعلموں کے مظاہرے جاری ہیں۔ جمعرات کو اس طرح کے ایک مظاہرے کو دوراں جو شمال مغربی شہر سوپور میں کیا گیا حفاظتی دستوں کے طرف سے آنسو گیس کے استعمال اور بانس کے ڈنڈے چلائے جانے کے نتیجے میں نصف درجن طلبہ زخمی ہوگئے، جبکہ بیس کے قریب طالبات بے ہوش ہوگئیں۔ سرینگر میں بھی طالبعلموں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ عینی شاہدین کی اطلاع کے مطابق، مظاہرین نے دونوں جگہ پولیس پر سنگباری کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG