رسائی کے لنکس

کشمیرتحریک روزگار و اقتصادی مراعات کےلیے نہیں ہے: آزادی پسند تنظیمیں

  • یوسف جمیل

بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے منگل کی شام نئی دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے آئے ہوئے ایک کُل جماعتی وفد کے ساتھ میٹنگ کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ حکومت ِ ہند کشمیری نوجوانوں کو روزگار کےمواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے میں اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات اُٹھائے گی، بشرطیکہ وادی کشمیر کے عوام امن قائم کرنے اور سڑکوں پر حفاظتی دستوں کے ساتھ پرسرِ پیکار نوجوان اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی طرف لوٹ جائیں۔

لیکن، بھارتی کشمیر کی بیشتر آزادی پسند تنظیموں نے وزیرِ اعظم کی اپیل اور پیش کش کو یہ کہتے ہوئے ٹُھکرا دیا ہے کہ اُن کی تحریک روزگار و اقتصادی مراعات کے حصول کے لیے نہیں بلکہ بھارت سے مکمل آزادی پانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔

حریت کانفرنس کے چیرمین سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ اگر بھارتی وزیرِا عظم پُرخلوص ہیں اور واقعی مسئلہ کشمیر کا پُرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں تو اُنھیں کشمیر کو متنازع مسئلہ قرار دینا چاہیئے تھا۔

دریں اثنا، جمعرات کو کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔اُدھر کریری نامی قصبے میں ایک طالبِ علم کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

سوپور شہر میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں تین پولیس والے ہلاک ہوگئے جب کہ راجوری میں عسکریت پسندوں نے ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا۔

فوجیوں نے بھی جواب میں گولیاں چلائیں۔ ایک مسافر بس گولیوں کے اِس تبادلے میں آگئی، اُس میں سوار ایک خاتون ہلاک اور سات لوگ زخمی ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ، دوفوجیوں کو بھی گولیاں لگی ہیں۔

XS
SM
MD
LG