رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں حکومت مخالف مظاہروں کا دوبارہ آغاز

  • ب

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بھارتی کشمیر میں کئی ہفتوں سے حکومت مخالف اور آزادی کے حق میں جاری مظاہروں میں مختصر تعطل کے بعد وادی میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں۔

علیحدگی پسند تنظیموں کی اپیل پرپیر سے احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں کے نئے سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے اور حکومت نے مختلف اضلاع میں دوبارہ کرفیو نافذ کر دیا ہے جب کہ سڑکوں پر بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار گشت کر رہے ہیں۔

ادھر گذشتہ ہفتے پولیس کی مبینہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا نوجوان دارالحکومت سری نگر کے ایک ہسپتال میں چل بسا جس کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ جون کے وسط سے اب تک بھارت مخالف مظاہروں اور دیگر پر تشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی ہے۔

دریں اثنا بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں نے پیر کو بھارتی کشمیر کے علاقے لداخ میں پھنسے تقریباً 150 غیر ملکی سیاحوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

تین روز قبل موسلادھار بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے سے لداخ میں غیر ملکیوں سمیت 150 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ سڑکوں کو نقصان پہنچنے کے باعث زمینی راستے سے علاقے تک رسائی نا ممکن ہو گئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ لداخ میں اب بھی تین سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں جب کہ علاقے میں لگ بھگ 25 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں فوجی سڑکوں اور پلوں کی مرمت میں مصروف ہیں لیکن جاری باشوں کے وجہ سے اس کام میں دشواری کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG