رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں جاری مظاہروں میں خواتین بھی شامل


کشمیر میں بھاری فوج (فائل فوٹو)

کشمیر میں بھاری فوج (فائل فوٹو)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کئی روز سے آزادی کے حق میں اور مبینہ بھارتی تسلط کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں نے جمعرات کو اُ س وقت ایک نیا ر خ اختیار کر لیا جب مقامی خواتین دارالحکومت سری نگر کی سڑکوں پر نکل آئیں۔

حکام نے متوقع مظاہروں کی حوصلہ شکنی کے لیے صبح سے ہی سری نگر اور وادی کے دوسرے اضلاع میں خواتین سکیورٹی اہلکاروں کی ایک کثیر تعداد تعینات کر دی تھی جب کہ ان متاثرہ علاقوں میں پہلے سے ہی کرفیو نافذ ہے۔

سری نگر میں خواتین مظاہرین ، جن میں سے کئی برقع میں ملبوث تھیں، کی پیش قدمی روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے نتیجے میں جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں ۔

واضح رہے کہ دو ہفتے کے دوران بھارتی کشمیر کے مختلف اضلاع میں آزادی کا مطالبہ کرنے والے افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں مبینہ طور پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے ایک درجن کے قریب نوجوان ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں کے پیشِ نظر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ وادی بھر میں پھیلتا جا رہا ہے۔

جمعرات کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی پر پہلی مرتبہ اپنے ردعمل اظہار کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا کے ساتھ رواں ماہ اسلام آباد میں مذاکرات کے موقع پر اس مسئلے پر بھی توجہ مبذول کرائیں گے۔

دریں اثناء بھارتی کشمیر میں سرگرم سیاسی دھڑوں نے بھارتی وزیرِ داخلہ پی چدم برم کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ وادی میں جاری کشیدگی میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی انتہا پسند تنظیم لشکرِ طیبہ ملوث ہے۔

میر واعظ عمر فاروق (فائل فوٹو)

میر واعظ عمر فاروق (فائل فوٹو)

علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز مظلوم نوجوانوں کو قتل کر رہی ہیں اور جب ان کے اس عمل کے خلاف مظاہرے کیے جاتے ہیں تو وہ لشکرِ طیبہ اور پاکستان کو کشمیر میں بد امنی کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیتی ہیں۔ ان کے بقول یہ سب کچھ بین الاقوامی برادری کو دھوکا دینے کے لیے کیا جا رہا ہے اور یہ بھارت کی طرف سے انسانیت کے خلاف جرائم کرنے کے بعد مظلوم بننے کی ایک کوشش ہے۔

مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مظاہروں اور ان میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کو روکا نہیں گیا تو بھارتی کشمیر میں تحریک آزادی ایک بار پھر زور پکڑ سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG