رسائی کے لنکس

کشمیر: لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کے باعث مقامی آبادی خوف زدہ

  • روشن مغل

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں نے گشیدگی کے پُر امن حل پر زور دیا۔

کشمیر کو دو حصوں میں منقسم کرنے والی حد بندی لائن پر تعینات بھارتی اور پاکستانی افواج کے مابین اگست میں تواتر کے ساتھ جھڑپوں کے باعث مقامی آبادی بھی سرحد پار سے کی گئی فائرنگ اور گولہ باری کی زد میں رہی اور صورتِ حال میں حالیہ بہتری کے باوجود یہاں بسنے والے بدستور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

لائن آف کنٹرول کے نام سے جانی جانے والی متنازع سرحد کے دونوں اطراف درجنوں دیہات آباد ہیں، جن میں سے بعض فوجی چوکیوں سے محض چند سو گز کے فاصلے پر ہونے کی وجہ سے ہلکے ہتھیاروں کی زد میں بھی آتے ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اضلاع کوٹلی اور پونچھ کے سرحدی علاقوں کے ہزاروں مکینوں کو فائرنگ اور گولہ باری سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا، تاہم درجنون گھرانے ایسے بھی ہیں جو کسی نا کسی وجہ سے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے کی سکت نہیں رکھتے۔

کوٹلی میں واقع نکیال سیکٹر کے سرحدی دیہات ترکنڈی، پلانی، بالاکوٹ، لنجوٹ اور جنجوٹ بہادر، ڈبسی وغیرہ کنٹرول لائن کے دوسری جانب سے ہونے والی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہیں۔

ترکنڈی میں فائرنگ اور گولہ باری سے متاثرہ افراد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ ہونے والی شدید گولہ باری کی وجہ سے انھیں کئی کئی دن تک گھروں میں بنائے گئے تہہ خانوں اور خندقوں میں پناہ لینی پڑی۔

ترکنڈی گاؤں کے 48 سالہ رہاشی بصیر سرور کے مکان پر بھی بھارتی فوج کی جانب سے داغے گئے ماٹر گولے گرے جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔

بصیر سرور نے بتایا کہ گولہ باری کا آغاز اچانک ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو جان بچانے کا بمشکل موقع ملتا ہے۔

’’ہم کھانے پینے کی اشیاء کے بغیر 72 گھنٹے تک یہاں محصور رہے۔ اگر یہاں گولہ گرے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بندہ بچ سکتا ہے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ تو اللہ نے ہمیں زندگی دی ہے۔‘‘

نکیال سیکٹر کے ایک اور سرحدی گاؤں پلانی میں رہائش پذیر 70 سالہ محمد لطیف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کا مکان بھی ان درجنوں مکانات میں شامل ہے جو حالیہ گولہ باری میں جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں مارٹر گولوں کے دھماکوں کی آواز سے خوف آتا ہے۔

ترکنڈی گاؤں کے رہائشی محمد اسلم نے صورت حال کے بارے میں بتایا کہ ان کے علاقے میں ایک منٹ میں 70 گولے آ کر گرے۔

’’میرے مکان میں 20 افراد بیٹھے ہوئے تھے، اتنی گولہ باری ہوئی کہ ہم پانی پینے کے لیے بھی باہر نہیں نکل سکے ... درختوں تک پر گولوں کے ٹکڑے لگے ہوئے ہیں۔‘‘


گولہ باری سے متاثرہ ترکنڈی گاؤں کے مکینوں نے وائس آف امریکہ کو کنٹرول لائن کے پار سے ان کے گھروں پر داغے گئے ماٹر گولوں کی باقیات بھی دیکھائیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں نے لائن آف کنٹرول پر گشیدگی کے پُر امن حل پر زور دیا۔

اس سلسلے میں بصیر سرور کا کہنا تھا: ’’پہلے تو لائن آف کنٹرول پر امن ہونا چاہیئے اور پھر بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے۔‘‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ کے درمیان اتوار کو نیو یارک میں ہوئی ملاقات میں بھی دونوں رہنماؤں نے لائن آف کنٹرول پر جاری جھڑپوں کو بند کرنے اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے محفوظ رہنے کے لیے اعلیٰ عسکری عہدیداروں کی سطح پر بات چیت پر اتفاق کیا تھا۔

گزشتہ ماہ شروع ہونے کشیدگی کے دوران بھارتی گولہ باری سے پاکستانی کشمیر کے چھ شہری ہلاک اور 32 زخمی ہو چکے ہیں جب کہ لگ بھگ 100 مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے۔

اس اثناء میں حکومت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے ہلاک و زخمی ہونے والوں کے لیے معاوضہ کی رقم 50 اور 25 ہزار سے بڑھا کر بالترتیب 3 اور 2 لاکھ کر دی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG