رسائی کے لنکس

یوم یکجہتیِ کشمیر: اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے سامنےمظاہرہ


یوم یکجہتیِ کشمیر: اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے سامنےمظاہرہ

یوم یکجہتیِ کشمیر: اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے سامنےمظاہرہ

مشرف کے دور میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا ایک بہت اچھا موقع تھا جس پر بر وقت عمل نہ کر کے دونوں ممالک نے ایک تاریخی موقع ہاتھ سے گنوا دیا: بعض مبصرین کی رائے

یوم یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے سامنے کشمیریوں کے حق ِخود ارادیت کے حق میں مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرے کی کال دینے والی تنظیم ‘کشمیر مشن یو ایس اے’ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ملک ندیم عابد کے مطابق سنیچر کو اقوام متحدہ کے بند ہونے کے باوجود انہوں نے اس مظاہرے کا اہتمام اس لیے کیا ہے کہ ایک طرف کشمیری عوام کو پیغام دیا جا سکے کہ ان کے حامی دنیا کے ہر شہر میں موجود ہیں اور دوسری طرف بھارتی حکومت کو یہ پیغام دیا جائے کہ، اُن کے بقول، ‘جب تک ایک بھی کشمیری دنیا میں کہیں زندہ ہے کشمیریوں کی آزادی کے لیے پر امن جدوجہد جاری رہے گی۔’

تنظیم کے بانی اور چئیرمین شاہین بٹ کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے فی الوقت کسی تجویز پر کام نہیں ہورہا ،کیونکہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ضروری ہے کہ مسئلے کی نشاندہی درست طریقے سے ہو اور ‘بھارت کی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو متنازعہ سمجھتا ہی نہیں ہے۔’

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر پر ہونے والی بات چیت کو رد کرتے ہوئے شاہین بٹ نے کہا کہ وہ یک طرفہ کوششیں تھیں،‘ جن میں دوسرا فریق کسی چیز پر سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ’

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جنرل مشرف سے بات چیت کے دوران بھارت نے پاکستان کی نرمی کا فائدہ اُٹھا کر‘پوری سرحد پر خاردار تاریں لگا لیں۔۔۔اور بہت سے کشمیریوں کو چن چن کر مارا۔’

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ صدر مشرف کے دور میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا ایک بہت اچھا موقع تھا جس پر بر وقت عمل نہ کر کے دونوں ممالک نے ایک تاریخی موقع ہاتھ سے گنوا دیا۔

اقوام متحدہ کے باہر جمع مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی نئے مطالبات نہیں کیے بلکہ ان کے مطالبات گذشتہ تریسٹھ سالوں سے ایک ہی ہیں اور وہ ان کے پورا ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

XS
SM
MD
LG