رسائی کے لنکس

کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت

  • کرٹ ارچن

کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت

کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت

ان دنوں بھارتی زیر انتظام کشمیر سیاحوں سے بھرا ہوا ہے ۔ جس کی وجہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں سری نگرمیں حالات میں بہتری ہے ۔ بھارت کے گرم شہروں سے سیاح کشمیر کی ندیوں اور ٹھنڈے پہاڑوں پر آ کر وقت گزار رہے ہیں ۔

تاجروں کا کاروبار بڑھ رہا ہےلیکن وہ چاہتے ہیں کہ ان کا معیارِ زندگی بھی بہتر ہو۔ وہ ان مشکلات سے پریشان ہیں جن کا سامنا انہیں لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف موجود منڈی تک پہنچنے کے لیے کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کشمیر پر دو جنگیں لڑ چکے ہیں۔ اب ان دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں۔

2008ء میں اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے دونوں ملکوں نے کشمیر کے لائن آف کنٹرول کو، جو پاکستانی کشمیرکو بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر سے علیحدہ کرتی ہے ، تجارت کے لیے کھولاتھا۔

لیکن اسی سال ممبئی پر دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تعاون معطل کر دیا گیا ۔

لائن آف کنٹرول پر ہونے والی تجارت کی رفتارکافی سست پڑ چکی ہےاور اب ہفتے میں صرف دو دن گاڑیاں سرحد کے ایک سے دوسری طرف جا سکتی ہیں۔

وہ پھل اور سبزیاں جنہیں لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف باآسانی فروخت کرنا ممکن ہے ، یہیں گل سڑ جاتی ہیں۔لیکن اب بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔

ہلال احمد ترکی ایک مقامی تجارتی تنظیم کے جنرل سیکٹری ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ وقت آ چکا ہے کہ اب کشمیر کے دونوں طرف تجارتی رکاوٹوں کو ختم کیا جائے۔

کشمیری تاجروں کو سب سے زیادہ شکایت غیر متوقع تجارتی پابندیوں سے ہے۔ پاکستان کی طرف سے لال مرچ کی درآمد پر پابندی سے ان کے گودام میں ثابت لال مرچ کا سٹاک اکٹھا ہوچکا ہے۔ وہ کشمیری تاجر جنہوں نے لائن کے دوسری طرف کی طلب پوری کرنے کا ارادہ کیا تھا ، اب نقصان برداشت کر رہے ہیں۔

دونوں جانب کے کشمیریوں کو بالمشافہ ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ ا صرف کبھی کبھار یک طرفہ ٹیلیفون کالز کی اجازت کی وجہ سے رقموں کی منتقلی پر اثر پڑ رہا ہے۔

نقد ادائیگی کا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے تجارت اشیاء کے تبادلے کی صورت میں کی جاتی ہے۔ اگر ایک تاجر وہ اشیاء نہ بیچ سکے جو اس نے بدلے میں لی ہیں تو وہ کسی تیسرے یا چوتھے تاجر سے سودا کرتا ہے۔ اس وجہ سے معاملہ اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

شکیل قلندر جموں و کشمیر کے محکمہء تجارت کے سابق عہدیدار ہیں۔ وہ اب کاروبار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کی کرنسی میں ادائیگی زیادہ مناسب ہوگی۔ ان کا کہناہے کہ مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ بھارتی حکومت یا پاکستانی حکومت کو تجارت میں مدد کے لیے ایک بنکنگ سسٹم قائم کرنے پر کوئی اعتراض ہو ۔ دونوں حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ لین دین میں بھارت اور پاکستان کی کرنسی کے استعمال کی اجازت دیں۔

موجودہ قوانین صرف 21 اشیاء کی تجارت کی اجازت دیتے ہیں۔ جن میں زیادہ تر دستکاریاں اور پھل یا سبزیاں شامل ہیں۔ شکیل کہتے ہیں کہ اب ان پابندیوں کو ہٹایا جانا چاہیے۔

بہت سے لوگ دونوں اطراف کے ایک دوسرے پر انحصار بڑھانے کو دیرپا امن کے قیام کا ایک مضبوط طریقہ قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG