رسائی کے لنکس

”پاکستانی کشمیر میں خودکش حملے باعث تشویش“

  • حسن سید

”پاکستانی کشمیر میں خودکش حملے باعث تشویش“

”پاکستانی کشمیر میں خودکش حملے باعث تشویش“

گزشتہ دو روز کے دوران پاکستانی کشمیر میں دو مختلف خودکش حملوں میں مجموعی طور پر دس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ نسبتاً انتہائی پرامن سمجھا جاتا ہے اور یہاں اس قسم کی پرتشدد کارروائیاں عام نہیں ہیں جس کے باعث اب ہونے والے خودکش حملوں پر یہاں کی سیاسی قیادت اور عوام دونوں ہی تذبذب کا شکار ہیں۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں پاکستانی کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم کانفرنس کے ایک رہنما ء سردار عتیق کا کہنا تھا کہ علاقے میں گذشتہ دس روز کے دوران ہونے والے دو خود کش حملے دہشت گردوں کے اس عالمی نیٹ ورک کی کارروائی دکھائی دیتے ہیں جن کے مقاصد میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا بھی شامل ہے۔

سابق وزیراعظم کے مطابق علاقے میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں ممکنہ طور پر وہ عناصر بھی ملوث ہوسکتے ہیں جو خطے میں عدم استحکام چاہتے ہیں اور تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان قیام امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کرتے آئے ہیں ۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر پاکستانی کشمیر میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے کیوں کہ ان کے مطابق علاقے میں موجود ہم آہنگی کے باعث سیاسی اور فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا نہیں دی جا سکتی جب کہ علاقے کے عوام بھی جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے او راپنی سرزمین کا تحفظ کرنے کے حوالے سے پر عزم ہیں۔

صوبہ سرحد کی حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رہنما سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مالا کنڈ ڈویژن جنوبی وزیر ستان اوردوسرے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر کامیاب فوجی آپریشن کے بعد جنگجو بھوکھلاہٹ کا شکار ہو کر پورے ملک میں بلا امتیاز کارروائیاں کر رہے ہیں۔

حاجی عدیل کی رائے میں پاکستانی کشمیر اور ملک کے دوسرے حصوں میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی سرپرستی القاعدہ کی طرف سے کی جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ راولا کوٹ اور اس سے پہلے مظفر آباد میں ہونے والے حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکریت پسند ہر صورت اور ہر مقام پر پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور عوام کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلاناچا ہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG