رسائی کے لنکس

کشمیری طلبہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قابل افسوس ہے: پاکستان


پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ کرکٹ میچ میں کسی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے پر بغاوت کے الزامات عائد کرنا ’’میرے خیال میں بہت بدقسمتی کی بات ہے۔‘‘

پاکستان نے بھارت کے خلاف کرکٹ میچ جیتنے کی خوشی منانے والے کشمیری طلبا پر بھارتی حکام کی طرف سے اطلاعات کے مطابق بغاوت کا مقدمہ درج کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بد قسمتی قرار دیا ہے۔

بھارت کے شہر میرٹھ میں واقع سوامی وویک آنند سبھارتی یونیورسٹی نے گزشتہ اتوار کو بھارت کے خلاف ایشیا کپ میں پاکستان کی فتح پر جشن منانے اور پاکستان کے حق میں نعرے بازی کرنے والے 67 طلبا کو اس ’’حرکت‘‘ پر یونیورسٹی سے نکال دیا تھا اور جمعرات کو یہ خبر بھی سامنے آئی کہ ان طلبا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں اس واقعے کو ایک بد قسمتی قرار دیا۔

’’کرکٹ میچ میں کسی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے پر بغاوت کے الزامات عائد کرنا میرے خیال میں بہت بدقسمتی کی بات ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ میچ کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ مختلف علاقوں میں کشمیریوں نے پاکستانی ٹیم کی حمایت کی۔ طلبا کی تعلیمی سرگرمیاں معطل کیے جانے پر تسنیم اسلم کا کہنا تھا۔

’’اگر یہ کشمیری طلبا یہاں پاکستان آکر اپنی تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے دل اور تعلیمی ادارے ان کے لیے کھلے ہیں۔‘‘

طلبا نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی اور ایک پرامن ریلی نکالی جس میں ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ان کا موقف سنے بغیر ہی یہ اقدام کیا ہے۔

ادھر طلبا کو یونیورسٹی سے نکالے جانے اور بغاوت کا مقدمہ درج کیے جانے کے خلاف بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مقدمہ درج کیےجانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتر پردیش کی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ یہ الزامات واپس لے۔

’’کشمیری طلبا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بہت سنگین سزا ہے جو کہ ان کا مستقبل تباہ کر دے گی اور یہ ناقابل قبول ہے۔‘‘

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ مانتے ہیں کہ جو کچھ طلبا نے جو کیا وہ مناسب نہیں لیکن وہ اس سلوک کے حق دار نہیں کہ ان پر بغاوت کا مقدمہ کیا ہے۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان طلبا پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے، طلبا میں بحث چھیڑنے، مذہب کی بنیاد پر تعصب کو ہوا دینے کے الزامات ہیں جس بارے میں اتر پردیش کی حکومت کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

روایتی حریفوں کے درمیان کرکٹ کا میچ ہمیشہ ہی سے دونوں ملکوں کے عوام کے لیے جذباتی اور اعصاب شکن موقع رہا ہے اور یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ بھلے ہی ٹورنامنٹ ہار جائیں پاکستان کو بھارت اور بھارت کو پاکستان سے نہیں ہارنا چاہیئے۔

اتوار کو ہونے والے میچ میں پاکستان نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو ایک وکٹ سے شکست دی تھی۔ اس میچ میں شکست پر بھارتی ذرائع ابلاغ میں اپنی کرکٹ ٹیم پر کڑی تنقید بھی کی گئی تھی۔
XS
SM
MD
LG