رسائی کے لنکس

نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد اب تک کوئی ہندو یاتری کٹاس راج کے مندروں میں پوجا کرنے نہیں آیا

پاکستان میں پوٹھوہار کے علاقے میں کلر کہار سے چوآ سیدن شاہ کی طرف جائیں تو راستے میں کٹاس کے مندر آتے ہیں جن کی اہمیت ہندو دھرم کے ماننے والوں کے لیے بے پایاں ہے مگر تقسیم ِ ہند کے بعد جب ہندو آبادی یہاں سے بھارت چلی گئی تو ان مندروں کا کوئی پرسانِ حال نہ رہا تھا۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جب پاکستان اور بھارت باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کررہے تھے تو اُس وقت کے گورنر پنجاب لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) خالد مقبول نےدو ہزار تین میں کٹاس کے ان مندروں کی بحالی کی طرف توجہ دی اور بعد ازاں اُس دور کے بھارتی وزیرِ داخلہ لال کشن ایڈوانی بھی اپنے دورہ پاکستان کے دوران کٹاس کے ان مندروں کو دیکھنے گئےتھے۔

دوہزار پانچ میں ان مندروں میں یہاں موجود ہندووں کے مقدس تالاب اور دیگر عمارتوں کی درستگی اور بحالی کا کام حکومتِ پنجاب کے سپرد کیا گیا اور اس پراجیکٹ میں بڑی تعداد میں رہائشی سہولتوں کی تعمیر بھی رکھی گئی تھی تاکہ بھارت سے جو یاتری یہاں آئیں تو وہ ان مندروں کے قریب ہی قیام بھی کرسکیں۔

اس مقام کی ہندو مذہب میں اہمیت کے حوالے سے محکمہ آثارِقدیمہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہندومت کی روایت کے مطابق شِو دیوتا اپنی بیوی کی موت پر رویا تو اُس کے آنسووں سے دو چشمے پھوٹے۔ ایک کٹاس کے مقام پر اور دوسرا بھارت میں اجمیر شریف کے قریب پوشکرا کے مقام پر۔

بھارت میں پوشکرا کے مقام پر پوجا کے دِنوں میں لاکھوں ہندو عقیدت مند حاضری دیتے ہیں اور تقسیم ِ ہند سے پہلے جتنے مذ ہبی جوش وخروش سے پوشکرا میں پوجا ہوتی تھی ویسے ہی جوش وخروش سے کٹاس میں بھی ہندو عقیدت مند پوجا کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کٹاس میں بحالی کے کام کے بعد عام خیال تھا کہ بڑی تعداد میں ہندو یاتری یہاں آیا کریں گے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے عہدیدار اظہر سلہری پاکستان میں ان ہندو یاتریوں کے لیے انتظامات پر مامور ہیں۔ اُنہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کٹاس میں ہندوؤں کے مقدس تالاب کی صفائی اور مندروں کی دستیابی کا کام کافی حد تک مکمل ہوجانے کے بعد فروری دو ہزار سات میں ایک سو چھہتر بھارتی یاتری یہاں شِوراتری کی پوجا کے لیے آئے تھے اور اُن کے بقول تقسیمِ ہند کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہندو یاتری یہاں پوجا کے لیے آئے۔

اُنہوں نے کہا کہ قبل ازیں پاکستان میں آباد ہندو آٹھ آٹھ یا دس دس کے گروپوں میں یہاں آیا کرتے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں اظہر سلہری نے کہا کہ دو ہزار سات میں ایک سو چھہتر یاتریوں کی آمد کے بعد اگلے برس یعنی دو ہزار آٹھ میں اسّی ہندو یاتری پاکستان آئے۔

یہ ہندو یاتری فروری کے مہینے میں اور پھر نومبر کے مہینے میں پوجا کے لیے پاکستان آتے ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین ایک معاہدے کے تحت پاکستان دو سو ہندو یاتریوں کو کٹاس راج مندروں میں پوجا کے لیے ویزے دینے کا پابند ہے۔

اظہر سلہری نے کہا نومبر دو ہزار آٹھ میں جب ممبئی میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا تو اسّی ہندو یاتری پاکستان میں تھے۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد اب تک کوئی ہندو یاتری کٹاس راج مندروں میں پوجا کے لیے نہیں آیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس برس فروری میں اُنہوں نے یاتریوں کی دیکھ بھال کے مکمل انتظامات کیے ہوئے ہیں اور بھارت سے یاتری اگر آتے ہیں تو اُن کی مناسب دیکھ بھال کی جائےگی۔

ایک سوال کے جواب میں اظہر سلہری نے کہا کہ ہندو یاتری آتے ہیں یا نہیں آتے، پنجاب حکومت کٹاس راج مندروں اور وہاں ہندووں کے مقدس تالاب اور دیگر عمارتوں کی بحالی کے پراجیکٹ پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

دریں اثنا محکمہ آثارِ قدیمہ کے عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ ساڑھے چار کروڑ مالیت کا پراجیکٹ ہے جس کے تحت کٹاس راج میں کام ہورہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب کے پبلک ہیلتھ انجینرنگ ڈیپارٹمنٹ نے کٹاس راج کے تالاب کو صاف کیا اور پھر ہندووں کے مقدس چشمے کے پانی سے اس کو بھرا رکھنے کا انتظام بھی کردیا اور اب اُن کے بقول اس تالاب میں مچھلیاں بھی چھوڑ دی گئیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اس عہدیدار نے کہا کہ پچاس سے ساٹھ یاتریوں کے لیے رہائشی عمارت بھی محکمے نے تعمیر کردی ہے اور کٹاس راج کے مندروں کی درستیابی کے ساتھ ساتھ یہاں موجود مندر کے پجاری کی روایتی رہائش گاہ "بیراگی ہاؤس" اور ہری سنگھ نلوا کی حویلی کو بھی بحال کرنے کا کام جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG