رسائی کے لنکس

امریکہ کی طرح برطانیہ بھی چاہتا ہے کہ 2014ء سے پہلےہی وہ افغانستان سے اپنی فوجوں کا انخلا کرے۔ ساتھ ہی، پاکستان چاہے گا کہ برطانیہ کے خدشات کو دور کیا جائے: تجزیہ کار

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پیر سے جاری اپنے سرکاری دورہٴ برطانیہ میں وزارتِ خارجہ اور دفاع کے دوروں کے موقع پر اعلیٰ سول اور فوجی حکام سے دوطرفہ دلچسپی کے امور اور افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

پاکستان ہائی کمیشن لندن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق جنرل کیانی نے پیر کے روز برطانوی وزیر دفاع نِک ہاروی، قومی سلامتی کے مشیر کَم ڈیرج، افغانستان اور پاکستان کے لیے برطانیہ کے خصوصی نمائندے مارک سیول اور برطانوی چیف آف ڈفنس اسٹاف جنرل ڈیوڈ رچرڈ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، جِن میں دوطرفہ دفاعی امور اور افغانستان کے حالات زیرِ بحث آئے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں دفاعی اطاشی کمڈور عمران سعید نے کہا کہ جنرل کیانی کا سرکاری دورہ ٴ برطانیہ 21مارچ تک جاری رہے گا۔

اس سوال پر کہ پاکستانی فوج کے سربراہ کا دورہٴ برطانیہ خطے کی موجودہ صورتِ حال خصوصاً افغانستان سے نیٹو افواج کے طے شدہ انخلا کی اسٹریٹجی اور افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کے تناظر میں کتنی اہمیت کی حامل ہے، افغان امور کے تجزیہ کار جان اچکزئی نے بتایا کہ یہ دورہ افغان صدر حامد کرزئی کے اُس بیان کے بعد ہو رہا ہے جس میں اُنھوں نے نیٹو سے ملک کے دیہاتی علاقوں سے نکل جانے کا کہا تھا۔

اُن کے خیال میں، برطانیہ چاہے گا کہ اگر پاکستان کا طالبان پر کوئی اثر ہے تو ڈالا جائے، تاکہ بات چیت کے رُکے ہوئے سلسلے کو پھر سے شروع کیا جائے، کیونکہ امریکہ کی طرح برطانیہ بھی چاہتا ہے کہ 2014ء سے پہلے اپنی فوجیں افغانستان سے نکال سکے۔ ساتھ ہی، اُن کے بقول، پاکستان چاہے گا کہ برطانیہ کے خدشات کو دور کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG