رسائی کے لنکس

کیز خان ایک خوبصورت آواز کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں۔ وہ اپنے گانے خود لکھتے ہیں، جِن کے بولوں میں وطن کی مٹی کی خوشبو بسی نظر آتی ہے

پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان گلوکار کیزخان کا شمار اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ’وہ آیا۔ اس نے دیکھا، اور فتح کر لیا‘۔

کیز خان ایک خوبصورت آواز کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں۔ وہ اپنے گانے خود لکھتے ہیں جن کے بولوں میں وطن کی مٹی کی خوشبو بسی نظر آتی ہے۔ کیز نے اپنے پہلے ہی پنجابی گانے 'جچتا' کی مقبولیت سے شہرت کی بلندیوں پر قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے، وہ نوجوان دلوں کی دھڑکن بن گئے ہیں۔

حال ہی میں کیز خان کا نیا ویڈیو سونگ 'کائنات' ریلیز ہوا ہے جسے ان کے مداحوں میں بے حد پسند کیا گیا ہے۔ کائنات میں جبری شادی جیسے حساس اور سنجیدہ موضوع کے حوالے سے پیغام دیا گیا ہے۔ موضوع کی مناسبت سے گانے کے بول، موسیقی اور پکچرائزیشن بے حد عمدہ ہے۔ گذشتہ دنوں کائنات بی بی سی ریڈیو ایشین نیٹ ورک کے ہٹ گانوں کی فہرست میں بھی شامل رہا ہے۔

کیزخان نے وی او اے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ، برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سےجبری شادیوں کے بہت سے واقعات ان کی نظر میں تھے۔ اِسی لیے اُنھوں نے اس اہم مسئلے کو ہلکے پھلکے انداز میں اپنی شاعری کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

بقول کیز، کائنات کی مقبولیت میں اس کی اسٹوری لائن، بہترین میوزک اور فلمسازی کا بڑا ہاتھ ہے۔

گانے کی ویڈیو ملٹی ٹیلنٹڈ فنکار یاسر اختر کی ’پیگاسس پروڈیکشن‘ میں تیار ہوئی ہے۔

اِس شارٹ ویڈیو فلم میں یاسر نےجبری شادی کو صحرا کی اداسی اور ویرانی سے تشبیہ دی ہےاور خاندانی روایت کی بھینٹ چڑھنے والی لڑکی کی جذباتی کشمکش اور بےبسی کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ جبکہ، ماڈل شمیلہ ناظر نے اپنی عمدہ اداکاری سےگانےمیں جان ڈال دی ہے۔

کیز خان کا اصل نام سید شاہ ویز شاہ ہے اور ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ، 'گانے کا شوق بچپن سے تھا۔ سال 2002 ءمیں برطانیہ آگیا۔ لیکن گلوکاری کا شوق مجھے بے چین رکھتا تھا۔ لہذا، اپنے ایک دوست کے مشورے سے میں نے گلوکاری کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جےکے ڈی پروڈیکشن میں اپنا پہلا گانا 'جچتا' ریکارڈ کروایا‘۔

اُن کے بقول، گانے کی کامیابی نے اِس شوق کو مزید تقویت پہنچائی۔ کائنات کی کامیابی کے بعد جلد ہی وہ اپنا ایک نیا ویڈیو سونگ 'ظلم'ریلیز کرنے والے ہیں۔

کیز کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں یوٹیوب ایک طاقتور میڈیا تصور کیا جاتا ہے۔ جہاں ویڈیو سونگ پوسٹ کرنے پر گھنٹوں یا دنوں میں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے جا رہے ہیں۔ لیکن، ایسے میں ہم پاکستانی گلوکار خاص طور پر جو وطن عزیز سے دور بیٹھے ہیں وہ نا تو فیس بک پر دوستوں کو اور ناہی فین پیج پر مداحوں کے ساتھ اپنا ویڈیو سونگ شئیر کرسکتے ہیں۔ کیونکہ، پاکستان میں یو ٹیوب پر بندش عائد ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ، پاکستان میں یو ٹیوب پر پابندی ہونے کی وجہ سے اُن جیسا گلوکار جن کا فین بیس پاکستان میں ہے بہت متاثر ہو رہا ہے،جنھیں اپنا کام پاکستان میں دیکھانے کا موقع نہیں مل رہا ہے۔

جہاں تک ٹی وی چینل کا تعلق ہے تو سبھی جانتے ہیں کہ، آج کل کیبل پر جتنے چینل ہیں ان سب پر گانا نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اُن کے الفاظ میں، ’میرا گانا برطانیہ میں کئی چینل پر دیکھایا جاتا ہے۔ لیکن، پاکستان تک رسائی حاصل کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اسی لیے جتنی پذیرائی ہمیں ملنی چاہیے ہم اس سے محروم ہوگئے ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں کیز کا کہنا تھا کہ، گلوکاری ان کا شوق ہے، ذریعہ معاش نہیں۔

’اِن دنوں یہ شوق اور بھی مہنگا ہو چکا ہے۔ جہاں تک دیگر ذرائع سے کمائی کا تعلق ہے، تو شوز اور پبلک تقریبات میں بلایا جاتا ہوں اور اچھے پیسے وصول کرتا ہوں‘۔

کیز نے بتایا کہ لندن شہر ایک کثیرالثقافتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں بھارتی، پاکستانی اور دیگر کمیونٹیز کے ثقافتی شوز، محفل موسیقی اور تہواروں کے حوالے سے سارے سال ہی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ، ایسی تقریبات میں اُنھیں بحیثیت ایک پاکستانی گلوکار، اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے، جو اُن کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔
XS
SM
MD
LG