رسائی کے لنکس

قزاقستان کے یومِ آزادی پہ جھڑپیں، 10 ہلاک


قزاق ہنگامے

قزاق ہنگامے

پرتشدد واقعات کا آغاز جمعہ کو قزاقستان کے مغربی شہر زنائوزن سے ہوا جہاں نوکریوں سے فارغ کیے گئے تیل کی صنعت سے متعلق ملازمین احتجاج کر رہے تھے

قزاقستان کے یومِ آزادی کے موقع پر ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پرتشدد واقعات کا آغاز جمعہ کو قزاقستان کے مغربی شہر زنائوزن سے ہوا جہاں نوکریوں سے فارغ کیے گئے تیل کی صنعت سے متعلق ملازمین احتجاج کر رہے تھے۔

ملک کے پراسیکیوٹر جنرل اشکت دول بائیف نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جمعہ کو ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد مارے گئے ہیں۔

اس سے قبل جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں دو پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب ہڑتالی مزدوروں میں سے بعض نے جشنِ آزدی کی تقریبات کے سلسلے میں شہر کے مرکزی چوک پر لگائے گئے شامیانے پھاڑ ڈالے۔

لیکن بعض مظاہرین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغامات میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پولیس نے گھیر لیا تھا جس کے بعد سرکاری اہلکاروں نے ان پر فائر کھول دیے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' نے ایک ویڈیو حاصل کی ہے جس میں فائرنگ کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں۔ لیکن دارالحکومت آستانہ میں موجود سرکاری حکام نے پولیس اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کی تردید کی ہے۔

علاقے میں کئی عمارات کو نذرِ آتش کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ جمعہ کو قزاقستان کا 20 واں یومِ آزادی تھا۔ تیل اور دیگر معدنی ذخائر سے مالا مال قزاقستان وسطی ایشیا کا معاشی اعتبار سے سب سے بڑا اور مستحکم ملک ہے جس نے آج سے 20 برس قبل سوویت یونین سے آزادی حاصل کی تھی۔

تاہم ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد آبادی کے مسلم اکثریتی اس ملک میں حالیہ کچھ عرصے میں چھوٹے پیمانے پر کیے گئے بم دھماکوںا ور فائرنگ کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن کا الزام حکام اسلامی شدت پسندوں پر عائد کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG