رسائی کے لنکس

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے گیس سے بچنے کے ماسک پہن رکھے تھے اور انھوں نے ویسٹ گیٹ مال کے اندر دستی بم پھینکے۔

کینیا میں حکام اتوار کو بھی ان حملہ آوروں کو قابو کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جنہوں نے نیروبی کے ایک مصروف شاپنگ مال پر ہلاکت خیز حملہ کر کے 59 لوگوں کو ہلاک اور 150 سے زائد کو زخمی کردیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو ویسٹ گیٹ مال کے ایک حصے تک محدود کر رکھا ہے۔

کینیا کے نیشنل ڈیزاسٹر آپریشن سنٹر کے مطابق ابھی تک مال سے ایک ہزار کے قریب لوگوں کو باہر نکالا جا چکا ہے اور صورتحال ان کے بقول ’انتہائی حساس‘ ہے۔

صومالیہ کے دہشت گرد گروپ الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کینیا کی صومالیہ میں فوجی مداخلت کا ردعمل ہے۔ اس گروپ کے ایک ترجمان نے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ ’’یا ملک چھوڑ جاؤ یا پھر مستقل حملوں کا نشانہ بنو‘‘۔

کینیا کی فوج دو سال قبل الشباب کے جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے صومالیہ میں داخل ہوئی تھی اور اس کی وجہ ان کے بقول اس گروپ کے سرحد پار حملوں کو روکنا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے گیس سے بچنے کے ماسک پہن رکھے تھے اور انھوں نے ویسٹ گیٹ مال کے اندر دستی بم پھینکے۔

کینیا کے صدر اوہورو کنیاٹا نے قوم سے خطاب میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف کینیا کے عوام کی یکجہتی کو سراہا۔

کینیڈا اور فرانس نے اس واقعے میں اپنے ایک، ایک شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس کا کوئی شہری ہلاک تو نہیں ہوا لیکن زخمیوں میں چند امریکی بھی شامل ہیں۔

امریکہ نے اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کینیا کی حکومت کو اپنے بھرپور تعاون کی پیشکش کی ہے۔
XS
SM
MD
LG