رسائی کے لنکس

صومالی پناہ گزینوں سے پولیس کے رویے پر تشویش

  • مائیکل اونیگئو

حالیہ برسوں میں کینیا اپنی سرحدوں کو ہمسایہ ملک صومالیہ کے دہشت گردوں سے محفوظ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس دوران صومالیہ سے پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد کینیا میں داخل ہو رہی ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کینیا کے حکام قومی سلامتی کے نام پر، بہت سی زیادتیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران، صومالیہ کے پناہ گزیں کینیا کے لیے روز بروز سنگین مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔صومالیہ تقریباً دو عشروں سے مسلسل جنگ و جدال کی لپیٹ میں رہا ہے اور جیسے جیسے قرن افریقہ کے اس ملک پر اقوام متحدہ کی حمایت سے قائم ہونے والی حکومت کی گرفت کمزور ہوئی ہے ، پناہ گزینوں کی بڑی تعداد نے کینیا کی زیادہ محفوظ سرحدوں کا رُخ کیا ہے ۔ نیو یارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے اندازہ لگایا ہے کہ صومالیہ کے 320,000 سے زیادہ پناہ گزیں اب کینیا میں رہتے ہیں۔ ان میں سے 40,000 سے زیادہ پناہ گزیں، 2010 کے ابتدائی مہینوں میں ہی کینیا پہنچے۔

کینیا کے حکام کا رویہ پناہ گزینوں کی جانب عام طور سے اچھا رہا ہے ۔ لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے حالیہ برسوں میں علاقے کی پولیس کے ہاتھوں پناہ گزینوں کے ساتھ زیادتیوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے ۔

گذشتہ جمعرات کوہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان ہے کینیا میں خوش آمدید۔ اس رپورٹ میں صومالیہ کے پناہ گزینوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیو ں کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق، پناہ کی تلاش میں آنے والوں کے ساتھ عام طور سے جسمانی تشدد کیا جاتا ہے جس میں آبرو ریزی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ، سرحد سے تقریباً 100 کلو میٹر کے فاصلے پر داداب کے کیمپوں کو جاتے ہوئے ، پولیس پناہ گزینوں سے پیسے اینٹھ لیتی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیسے چھیننے کے خطرے سے بچنے کے لیے بعض پناہ گزیں مجبور ہوکر داداب کا عام راستہ چھوڑ کر متبادل راستہ اختیار کرتے ہیں اور اس طرح ان پر جرائم پیشہ عناصر کے حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مسئلے کی ایک وجہ یہ ہے کہ سرکاری طور پر سرحد کو جنوری 2007 میں بند کر دیا گیا تھا۔ سرحد بند ہونے سے پہلے اقوام ِ متحدہ کے کمشنر برائے پناہ گزیں سرحد سے صرف 15 کلومیٹر دور لیبوئی میں پناہ گزینوں کا ایک سینٹر چلاتے تھے ۔ یہاں پناہ گزینوں کی اسکریننگ کے بعد انہیں بحفاظت داداب کے ارد گرد کے کیمپوں میں پہنچا دیا جاتا تھا۔سرحد بند ہونے کے بعد لیبوئی کا مرکز ختم کر دیا گیا اور پولیس نے پناہ گزینوں کو واپس بھیجنا شروع کر دیا۔ 2009 میں ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں کینیا کے حکام سے کہا گیا تھا کہ وہ سرحد کو دوبارہ کھول دیں اورلیبوئی سینٹرکو کام کرنے دیں۔

پولیس کے عہدے داروں نےہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی ہے۔ تا ہم انھوں نے انکشاف کیا کہ سرکاری عہدے داروں اور شمال مشرقی صوبے کے اہم مذہبی اور سول سوسائٹی کے افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو بد سلوکیوں اور حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کرے گی۔

کینیا کی پولیس کے نائب ترجمان چارلس اووینو نے کہا کہ علاقے کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کینیا نے پناہ گزینوں کی کتنی زیادہ مدد کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کینیا صومالیہ کے لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک نہیں کرے گا لیکن شمال مشرقی سرحد پر سکیورٹی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔

اووینو کہتے ہیں’’ہمیں کسی مخصوص نسلی گروپ کو دہشت گردی سے منسلک نہیں کرنا چاہیئے۔یہ بات اصولی طور پر غلط ہے ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ لوگوں میں بعض واقعات کی وجہ سے خوف پھیلا ہوا ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ملک میں کچھ واقعات ہو چکے ہیں۔ ایک بار خوفناک بمباری ہوئی ہے ۔ اس لیے ہم سکیورٹی کے معاملات میں کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ کوئی بھی شخص دہشت گردی کر سکتا ہے ۔ اس لیے ہم کسی مخصوص گروپ کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ ایتھیوپیا، جبوتی اور ایریٹریا کے مقابلے میں، کینیا کے اس خوبصورت ملک نے ہمسایہ ملک صومالیہ کو کہیں زیادہ مدد دی ہے۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ کے ایک محقق گیری سمپسن نے صومالیہ کے پناہ گزینوں کے لیے کینیا کی مدد کا اعتراف کیا اور یہ بھی تسلیم کیا کہ کینیا کو کچھ خطرات در پیش ہیں۔ لیکن انھوں نے کہا کہ ان چیزوں کی وجہ سے بد سلوکی کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا’’ہم جانتے ہیں کہ دو عشروں سے کینیا نے صومالیہ کے پناہ گزینوں کے ساتھ فیاضی کا سلوک کیا ہے۔ کینیا میں آج کل ایک لاکھ20 ہزار درج شدہ صومالی پناہ گزیں موجود ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کینیا پر بڑا بوجھ ہے۔تا ہم ، اس بوجھ سے اس قسم کی بد سلوکیوں اور زیادتیوں کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا جن کے بارے میں ہمارے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ ہمیں تشویش ہے کہ ہم نے پناہ گزینوں سے پولیس کی طرف سے انہیں دہشت گرد کہے جانے کے بارے میں جو باتیں سنی ہیں، اس سے عام سیاسی ماحول کا اظہار ہوتا ہے جس میں صومالیہ کے لوگوں پر دہشت گردوں کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے۔ اس طرح قومی سلامتی کے نام پر، پولیس کی طرف سے زیادتیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔‘‘

پولیس کے علاوہ،ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کی بھی مذمت کی گئی ہے کہ انھوں نے کیمپوں میں ہونے والی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں کی نشاندہی اور رپورٹنگ نہیں کی۔ رپورٹ میں اس بین الاقوامی ایجنسی سے کہا گیا ہے کہ وہ صومالیہ کے پناہ گزینوں کی حفاظت کے لیے صورت حال کی نگرانی میں فوری اضافہ کرے۔

XS
SM
MD
LG