رسائی کے لنکس

کینیا کی کرکٹ ٹیم کا دورۂ پاکستان


لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کی ایک فائل فوٹو

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کی ایک فائل فوٹو

'پی سی بی' حکام کے مطابق حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر مہمان ٹیم کو ہوٹل کے بجائے 'نیشنل کرکٹ اکیڈمی' کے رہائشی کوارٹرز میں ٹہرایا گیا ہے۔

افریقی ملک کینیا کی کرکٹ ٹیم سخت حفاظتی انتظامات میں پاکستان پہنچ گئی ہے جہاں وہ پاکستان 'اے' کے ساتھ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلے گی۔

کینیا کی ٹیم منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور کے ہوائی اڈے پہنچی جہاں سے اسے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں قذافی اسٹیڈیم میں واقع 'پاکستان کرکٹ بورڈ' کے صدر دفتر لے جایا گیا۔

'پی سی بی' حکام کے مطابق حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر مہمان ٹیم کو ہوٹل کے بجائے قذافی اسٹیڈیم سے متصل 'نیشنل کرکٹ اکیڈمی' کے رہائشی کوارٹرز میں ٹہرایا گیا ہے۔

حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر 'پی سی بی' کی انتظامیہ نے قذافی اسٹیڈیم کے نزدیک قائم 'فوڈ اسٹریٹ' میں موجود ریستورانوں کے مالکان سے دو ہفتوں تک اپنا کاروبار بند رکھنے کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد کینیا کی ٹیم گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والی دوسری غیر ملکی کرکٹ ٹیم ہے۔

اس حملے میں سری لنکن ٹیم کی حفاظت پر مامور چھ پولیس اہلکار اور ٹیم کو ہوٹل سے اسٹیڈیم لے جانے والی بس کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا جب کہ بعض سری لنکن کھلاڑی اور ایک پاکستانی امپائر دہشت گردوں کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد غیر ملکی ٹیموں نے سکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد سے 'پی سی بی' کو اپنی تمام ہوم سیریز کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں کرنا پڑ رہی ہےجس کے نتیجے میں، پی سی بی حکام کے مطابق، انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سے پڑوسی ملک افغانستان کی کرکٹ ٹیم دو بار پاکستان کا دورہ کرچکی ہے تاہم پی سی بی حکام نے کینیا کی ٹیم کی آمد کو زیادہ اہم قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے مہمان ٹیم کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے ہیں اور انہیں امید ہے کہ دورے کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔

'رائٹرز' کےساتھ گفتگو کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ کینیا کی ٹیم کے دورۂ پاکستان کی کامیابی سے تکمیل کے بعد 'پی سی بی' اعتماد کے ساتھ دیگر ٹیموں کو پاکستان آکر کرکٹ کھیلنے کی دعوت دینے کے قابل ہوسکے گا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ ہفتے کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG