رسائی کے لنکس

’پی فائیو پلس ون‘ کا گروپ، جو ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، اُسے امید ہے کہ وہ ’سمجھوتے کے ایک خاکے (فریم ورک)‘ پر رضامند ہوجائیں گے، جو رواں ماہ کے آخر تک، بالآخر ایک مکمل سمجھوتے کی صورت اختیار کر سکتا ہے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اب یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ دنیا کو یہ دکھائے اور ثابت کرے کہ اس کا جوہری پروگرام واقعی پُرامن مقاصد کے لیے ہے، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتا ہے۔


کیری نے یہ بات ہفتے کو پیرس میں فرانسیسی وزیر خارجہ لورے فیبس اور نامہ نگاروں سے گفتگو کی مشترکہ نشست کے دوران کہی۔

جیسا کہ اس سے قبل بھی کہا گیا ہے، کیری نے جوہری پروگرام پر ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کی اطلاع دی۔ تاہم، بتایا کہ اس میں ابھی کچھ جھول ہیں۔

’پی فائیو پلس ون‘ کا گروپ، جو ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، اُسے امید ہے کہ وہ ’سمجھوتے کے ایک خاکے (فریم ورک)‘ پر رضامند ہوجائیں گے، جو رواں ماہ کے آخر تک، بالآخر ایک مکمل سمجھوتے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں 30 جون کی ممکنہ ڈیڈلائن دی گئی ہے، جس کے اندر اندر دونوں فریق کو قابل قبول حتمی سمجھوتا طے کرنا ہوگا۔

کیری نے کہا کہ ہمارے سامنے چند ہفتے باقی ہیں، جو فیصلہ کُن نوعیت کے ہیں۔

بقول اُن کے، ’ہمیں پورا احساس ہے کہ دِن تیزی سے گزر رہے ہیں۔ لیکن، ہم اتنی تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں، جتنی تیز رفتاری سے ہمیں ممکنہ سمجھوتے کی جانب آگے بڑھنا چاہیئے۔ ضروری ہے کہ ہم ایک صحیح سمجھوتا طےکرلیں‘۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کاروں کو ایک ’ٹھوس سمجھوتا‘ درکار ہے، جس سے علاقائی سلامتی فراہم ہوتی ہو۔

فیبس نے کیری سے اتفاق کیا کہ اسی ماہ کے اندر سمجھوتے کا خاکہ طے کرنے میں ابھی کافی کام باقی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ اگلے ہفتے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے پھر ملاقات کرنے والے، جب 15 مارچ کو ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ پھر شروع ہوگا۔

ایران ایسے سمجھوتے کی کوشش کر رہا ہے جس سے اُسے معاشی تعزیرات سے نجات ملے جن کے باعث اس کی معیشت مشکلات سے دوچار ہے، جس کے بارے میں مغربی ملکوں کا خیال یہ ہے کہ ایران کا پُرامن مقاصد کا نیوکلیئر پروگرام دراصل جوہری ہتھیار تشکیل دینے کی در پردہ کوشش ہے۔

امریکہ اور اُس کے اتحادی ایسا سمجھوتا طے کرنے کی کوشش میں ہیں جس کی مدد سے ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تشکیل دینے کی سعی کو روکا جائے۔

کیری اور فیبس نے ہفتے کو برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ اور جرمن وزیر خارجہ والٹر اسٹائنمر سے ملاقات کی۔

امریکی اور فرانسیسی اہل کاروں نے عراق اور شام میں داعش کے شدت پسند گروہ سے نبردآزما ہونے کی کوششوں کے علاوہ، لیبیا میں جاری کشیدگی کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔

XS
SM
MD
LG