رسائی کے لنکس

آزادی شدت پسندی سے طاقت ور ہے: میراتھون چمپیئن


میراتھون جیتنے والے، ڈلیزا کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات

میراتھون جیتنے والے، ڈلیزا کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات

’کھیل کو میدانِ جنگ ہرگز نہیں بننا چاہیئے‘۔ ڈیلیزا نے یہ بات اتوار کو ادیس ابابا میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں کہی

رواں سال بوسٹن میں ہونے والی میراتھون دوڑ کے چمپیئن، لیلزا ڈسیزا نے، جِن کا تعلق ایتھیوپیا سے ہے، کہا ہے کہ اپریل کے بم حملوں کے واقعے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کو خراج پیش کرنے کے لیے وہ یہ تمغہ شہر کو لوٹانے کے خواہشمند ہیں۔

ڈیلیزا نے اتوار کے روز ادیس ابابا کے امریکی سفارت خانے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کی۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’کھیل کو ہرگز میدانِ جنگ نہیں بننا چاہیئے‘۔

اور اُنھوں نے کہا کہ یہ تمغہ بوسٹن کو لوٹانا اِس عزم کا اظہار ہوگا کہ، ’آزادی شدت پسندی کے کسی اقدام سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے‘۔

پندرہ اپریل کو بوسٹن میراتھون کی ’فِنش لائن‘ کے قریب ہونے والے ان دو دھماکوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 260سے زائد زخمی ہوئے۔

چیچنیا میں پیدا ہونے والا ایک مشتبہ شخص اِس وقت وفاقی اداروں کی تحویل میں ہے۔ اُن کا بھائی، جس پر بھی دھماکوں کا شبہ تھا، وہ پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوا۔

میراتھون کےوہ رنرز جو بم حملوں کے باعث ’فِنش لائن‘ تک نہیں پہنچ پائے تھے، اُن ہزاروں رنرز نے ہفتے کے دِن باقی ماندہ ایک کلومیٹر میراتھون فاصلے کی علامتی دوڑ مکمل کی۔
XS
SM
MD
LG