رسائی کے لنکس

جان کیری کا پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت کا دفاع


کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر باب کروکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہاں اب بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستان کو ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی فروخت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اتحادی ملک ہے اور اس کی فوج دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے۔

یہ بات انھوں نے منگل کو سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کی ہونے والی سماعت کے دوران سوالات کے جواب میں کہی۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر باب کروکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہاں اب بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور وہ افغانستان کو مستحکم کرنے کے لیے موجود امریکی فوج کے لیے خطرہ ہیں۔

ان کے بقول بحیثیت کمیٹی سربراہ وہ اوباما انتظامیہ کو امریکی عوام کا پیسہ اس طرح خرچ نہیں کرنے دیں گے۔

ان کا اشارہ ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے معاملے میں پاکستان کو دی جانے والی چھوٹ کی طرف تھا۔

وزیر خارجہ کیری نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار فوجی مغربی سرحد پر ہیں جہاں وہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں پاکستان کو بہت نقصان پہنچا اور اس کے ہزاروں شہری مارے گئے۔

جان کیری نے کہا کہ وہ سینیٹر کروکر کے تحفظات سے آگاہ ہیں اور یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس پر وہ اس فورم پر بات نہیں کرسکتے۔

رواں ماہ ہی اوباما انتظامیہ نے پاکستان کو تقریباً 70 کروڑ ڈالر مالیت کے آٹھ ایف سولہ طیارے اور دیگر فوجی سازو سامان فروخت کرنے کہا تھا اور امریکی کانگریس کو اس سودے کی توثیق یا استرداد کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان، امریکہ کا قریبی اتحادی ہے لیکن ایک عرصے تک اس پر شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں تصور کیے جانے والے قبائلی علاقوں میں سنجیدگی سے کارروائی نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا جاتا رہا۔

تاہم جون 2014ء سے پاکستانی فوج نے افغان سرحد سے ملحقہ شمالی وزیرستان اور پھر خیبر ایجنسی میں بھرپور کارروائیوں کا آغاز کیا جس میں اب تک 3400 سے زائد ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک، سیکڑوں ٹھکانوں اور بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کرنے کا بتایا جا چکا ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شمالی وزیرستان میں دیگر فوجی عہدیداروں کے ہمراہ

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شمالی وزیرستان میں دیگر فوجی عہدیداروں کے ہمراہ

پاکستان کا موقف ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کر رہا ہے جو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی وزیر دفاع کی طرف سے حال ہی میں یہ بیان سامنے آیا تھا کہ امریکہ میں کچھ لوگ ایف سولہ طیاروں کی پاکستان کو فروخت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں ان کے بقول "بھارتی لابی" بھی شامل ہے۔

طیاروں کی فروخت کی بابت آمادگی سامنے آتے ہیں بھارت نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا تھا لیکن امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع دونوں ہی یہ کہہ چکے ہیں بھارت کو اس پر تشویش نہیں ہونی چاہیے اور ان کے بقول اس سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی استعداد بڑھانے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG