رسائی کے لنکس

شہری کی رہائی کے لیے شمالی کوریا سے 'ڈیل' نہیں کی، امریکہ


جیفری فاؤل کا امریکہ پہنچنے کے بعد ان کے اہلِ خانہ استقبال کر رہے ہیں

جیفری فاؤل کا امریکہ پہنچنے کے بعد ان کے اہلِ خانہ استقبال کر رہے ہیں

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا کہ جیفری فاؤل کی رہائی کے لیے صدر براک اوباما نے کئی اپیلیں کی تھیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے شمالی کوریا میں قید امریکی شہری کی رہائی کے لیے پیانگ یانگ کی کمیونسٹ حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔

بدھ کو برلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ جیفری فاؤل کی رہائی کے لیے صدر براک اوباما نے کئی اپیلیں کی تھیں اور فاؤل کی رہائی انہی اپیلوں کے بعد عمل میں آئی ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے منگل کو جاری کیے جانے والے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا تھا کہ جیفری فاؤل کو ملک کے سربراہ کم جونگ ان کے حکم پر رہا کیا جارہا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق ریاست اوہایو سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ جیفری فاؤل بدھ کی صبح امریکہ پہنچ گئے ہیں اور ابتدائی طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی صحت قابلِ اطمینان قرار دی ہے۔

فاؤل چھ ماہ قبل سیاحتی ویزہ پر شمالی کوریا گئے تھے جہاں ان کے قبضے سے انجیل کا نسخہ برآمد ہونے کے بعد حکام نے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔

ان کے اہلِ خانہ کا موقف تھا کہ جیفری کسی مشنری مشن پر شمالی کوریا نہیں گئے تھے بلکہ ان کا یہ دورہ سراسر سیاحتی مقاصد کے لیے تھا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ فاؤل کی رہائی کے بعد اب بھی دو امریکی شہری - کینتھ بائے اور میتھیو ملر - شمالی کوریا کی قید میں ہیں جن کے متعلق امریکی حکومت تشویش کا شکار ہے۔

ملر کو شمالی کوریا کے خلاف کام کرنے کے الزام میں پیانگ یانگ کی حکومت نے چھ سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے جب کہ اسی الزام کے تحت بائے 15 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG