رسائی کے لنکس

بقول اُن کے، ’جس قسم کی انتہا پسندی ہمیں دکھائی دیتی ہے، مذہب کے نام پر شدید استحصال جس کی بنا پر شدت پسندی کا رجحان پیدا ہوتا ہے، اُس کی کسی مذہب میں کوئی گنجائش نہیں‘

امریکی وزیر خارجہ، جان کیری کا کہنا ہے کہ داعش کی سوچ اور حرکات یا وہ جو کچھ لوگوں کے ساتھ کر رہا ہے، اُس کا کسی طور پر اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بقول اُن کے، ’جس قسم کی انتہا پسندی ہمیں دکھائی دیتی ہے، مذہب کے نام پر شدید استحصال جس کی بنا پر شدت پسندی کا رجحان پیدا ہوتا ہے، اُس کی کسی مذہب میں کوئی گنجائش نہیں۔‘

اُنھوں نے یہ بات جمعرات کی شام گئے عید الاضحیٰ کی خوشی منانے کے لیے محکمہٴ خارجہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہی، جس میں کافی تعداد میں سفارت کاراور نامور شخصیات شریک تھیں

کیری نے کہا کہ عید الاضحیٰ دعا، رحم دلی، قربانی اور غریبوں کی مدد کا پیغام دیتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پُر تشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی نے ترقی کی راہ میں مسائل کھڑے کر رکھے ہیں، جن کے اصل محرکات بدعنوانی، انصاف اور عمل داری کی عدم دستیابی ہیں، جس کے باعث مسائل نے عوام کو جکڑا ہوا ہے۔

جان کیری نے دور جدید میں دنیا کو درپیش مسائل اور تنازعات کا ذکر کیا، جن میں دہشت گردی، عراق، شام، داعش، غزہ کی تعمیر نو، ایران کا متنازع جوہری پروگرام ، شام سے نقل مکانی، غربت، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے معاملات شامل ہیں۔

وزیر خارجہ نے یورپ میں 30 سال تک جاری رہنے والی جنگ اور دیگر تاریخی واقعات کا حوالہ دیا، مثلاً پروٹیسٹنٹس اور کیتھولکس کی آپس کی چپقلش۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ دنیا آج ایک ’مشکل‘ اور ’انتہائی پیچیدہ‘ دور سے گزر رہی ہے۔ ساتھ ہی، تینیکی طور پر مؤثر میڈیا کی دستیابی کے باعث آج دنیا میں نمودار ہونے والے واقعات کی فوری طور پر دنیا کو خبر ہوجاتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عید کا ایک پہلو غریبوں کی مدد اور خیر کے کام میں شریک کرنا ہے، جو قابلِ تقلید عمل ہے۔

غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے ضمن میں، جان کیری نےبتایا کہ امداد دینے والے ممالک نے قاہرہ میں منعقدہ اجلاس میں 5.4 ارب ڈالر کی رقوم فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم، وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ تعمیر نو ہی کافی نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ فلسطینی علاقہ پھر کبھی تباہی نہ دیکھے۔

اس سلسلے میں، اُنھوں نے امن کے لیے مذاکرات کی راہ کی طرف لوٹنے پر زور دیا۔

شام کے بارے میں، اُن کا کہنا تھا کہ جنگ اور شورش کے باعث ایک کروڑ کے قریب لوگ داخلی اور بیرونی نقل مکانی کرچکے ہیں؛ جن میں سے 15 لاکھ لبنان چلے گئے ہیں، اتنے ہی افراد ترکی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں، اور 15 لاکھ سے زائد لوگ اردن میں خیموں میں رہ رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پُرامن بقائے باہمی کےلیے اسرائیل فلسطین کے درمیان امن کا حصول لازم ہے۔

جان کیری نے کہا کہ امن، ترقی، خوش حالی، روزگار کے ذرائع اور تعلیم کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ مل کر کوششیں کی جائیں، اور ساجھے داری اور تعاون کی راہ اپنائی جائے۔

ملالہ یوسف زئی کا ذکر کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ یہ خوشی اور فخر کا مقام ہے کہ ایک کم سن مسلمان بچی کو امن کا نابیل انعام دیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نےملالہ کی ہمت اور عزم کو سراہا، کہ دھمکیوں کے باوجود وہ بچیوں کی تعلیم کی خاطر میدان میں کھڑی رہیں۔

اُنھوں نے یاد دلایا کہ محکمہٴخارجہ کی طرف سے اس سال اکتوبر میں شارق ایچ ظفر کو مسلمان برادریوں کے لیے نمائندہٴخصوصی مقرر کیا گیا۔ وہ باہمی مفاد کے معاملات پر دنیا بھر کی مسلم برادریوں کے ساتھ رابطوں کے کام میں معاونت کریں گے، جس کا مقصد مشترکہ اہداف کا حصول اور امریکی خارجہ پالیسی کو فروغ دینا ہے۔

جان کیری نے کہا کہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور بین المذاہب سوجھ بوجھ کو فروغ دینے کے معاملے کو اہمیت دی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG