رسائی کے لنکس

کیری کا ترکی اور اسرائیل کا اہمیت کا حامل دورہ


جان کیری

جان کیری

دورے کا مقصد صدر براک اوباما کی طرف سے خطے کےحالیہ دورے کے ثمرات کو پختہ کرنا ہے، جس کے باعث ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعطل کا خاتمہ عمل میں آیا

امریکی وزیر خارجہ جان کیری مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہونےو الے ہیں، جس دوران وہ استنبول کے ساتھ ساتھ یروشلم اور رملہ جائیں گے۔ دورے کا مقصد صدر براک اوباما کی طرف سے خطے کےحالیہ دورے کے ثمرات کو پختہ کرنا ہے، جس کے باعث ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعطل کا خاتمہ عمل میں آیا۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نامہ نگار میریڈتھ بیوئل نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے 2010ء کے مہلک بحری کمانڈو کارروائی کے معاملے پرحال ہی میں ترکی سے معذرت کی تھی، جس کی ثالثی صدر براک اوباما نے کی، جس کا مقصد امریکہ کے دو قریبی اسٹریٹجک اتحادیوں کے مابین سفارتی تعلقات بحال کرانا تھا۔

دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو اُس وقت سخت دھچکہ پہنچا تھا جب غزہ جانے والے ترکی کے ایک بحری بیڑے پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ترکی کے نو سرگرم کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔

ترکی نے معذرت قبول کرلی ہے۔

ادھر، صدر اوباما نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

متوقع طور پر، دونوں ممالک کے دورے میں، امریکی وزیر خارجہ جان کیری انقرہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کے عمل کو جاری رکھیں گے۔

جیمز جیفری، ترکی میں امریکہ کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔ اِن دِٕنوں، وہ واشنگٹن کے ’انسٹی ٹیوٹ فور نیئر ایسٹ پالیسی‘ سے بطور ایک تحقیق کار کے وابستہ ہیں۔

اُن کے بقول، ’خطے کے حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، جس میں ترکی کے عراق، شام اور ایران کے ساتھ معاملات ٹھیک نہیں، ایسے میں اسرائیل کے خاص طور پر ایران کے ساتھ بہت، بہت ہی مشکل صورتِ حال درپیش ہے اور ’عرب اسپرنگ‘ کے حوالے میں عمومی طور پر مسائل کا سامنا ہے۔ اِس لیے، حکمت عملی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک انتہائی اہم قدم ہے‘۔

استنبول کے دورے میں، کیری شام کی خانہ جنگی کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

ترکی شام کی 900کلومیٹر کی سرحد مشترک ہے، اور وہ شام کی حزب مخالف کی حمایت کرنے والا اہم ملک ہے۔

کیری یروشلم اور رملہ کا بھی دورہ کریں گے، ایسے میں جب اوباما انتظامیہ اسرائیل فلسطینیوں کے درمیان تعطل کے شکار امن مذاکرات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فلسطینی اس بات کے خواہاں ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر رکوائی جائے، جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بات چیت کا اجرا بغیر شرائط کے ہونا چاہیئے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان، وکٹوریا نُلینڈ نے کہا ہے کہ، ’وزیر خارجہ اور صدر دونوں نے یہ کہا ہے کہ فریقین کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے کا یہ ایک بہترین موقعہ ہے کہ ہم اس عمل میں اُن کی حمایت پر تیار ہیں۔ تاہم، ہم اُس سے زیادہ کچھ نہیں کر پائیں گے، جب تک کہ وہ خود اِس پر آمادہ نہ ہوں‘۔
XS
SM
MD
LG