رسائی کے لنکس

امریکی وزیرِ خارجہ کی افغان صدر سے ملاقات


صدر کرزئی واضح کرچکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کا کوئی بھی معاہدہ اپریل 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ہی ہوسکے گا۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کابل میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں امریکی فوجیوں کے افغانستان میں قیام میں توسیع سے متعلق مجوزہ معاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیکریٹری کیری جمعے کو غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچے تھے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت ہورہا ہے جب افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مستقبل میں کردار سے متعلق مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر اتفاق رائے کی ڈیڈلائن نزدیک آرہی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر کرزئی حکومت غیر ملکی افواج کے انخلا کی 2014ء کی ڈیڈلائن کے بعد بھی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی چاہتی ہے تو اسے رواں ماہ کے اختتام تک اس بارے میں معاہدہ کرنا ہوگا۔

لیکن صدر کرزئی واضح کرچکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ اس بارے میں کوئی بھی معاہدہ اپریل 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ہی ہوسکے گا۔

اگر دونوں ملک کسی معاہدے پر متفق نہ ہوئے تو امریکہ 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے اپنے تمام فوجی واپس بلالے گا۔

دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے مجوزہ معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں جو دو بنیادی اختلافات کی وجہ سے تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

امریکہ کا اصرار ہے کہ اگر افغانستان اپنی سرزمین پر 2014ء کے بعد بھی امریکی فوجیوں کی موجودگی چاہتا ہے تو اسے انہیں انسدادِ دہشت گردی کی آزادانہ کاروائیوں کی اجازت دینا ہوگی۔ لیکن کرزئی حکومت اس مطالبہ کی مخالفت کر رہی ہے۔

دوسری جانب افغانستان کا مطالبہ ہے کہ 2014ء کے بعد افغانستان میں موجود رہنے والے امریکی فوجی دستوں کو کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں افغانستان کا دفاع کرنا ہوگا۔ اوباما انتظامیہ اس مطالبہ پر شش و پنج کا شکار ہے۔

جمعے کو کابل پہنچنے کے فوری بعد امریکی وزیرِ خارجہ اور ان کے وفد کے ارکان کو صدارتی محل لے جایا گیا جہاں انہوں نے صدر کرزئی سے ملاقات کی۔

ملاقات میں افغانستان کے لیے امریکی سفیر جیمز کننگھم اور افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوج کے امریکی سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ بھی شریک تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ سیکریٹری کیری اپنے دورے کے دوران میں افغان حکومت کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر اتفاقِ رائے کے بجائے "باہمی دلچسپی کے امور" پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ملاقات میں صدر کرزئی اور سیکریٹری کیری کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں۔
XS
SM
MD
LG