رسائی کے لنکس

روس امریکہ مذاکرات میں شام، داعش اور یوکرین پر بات چیت


اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران جان کیری نائب وزیر خارجہ وکٹوریہ نولینڈ سے بات کر رہے ہیں۔

اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران جان کیری نائب وزیر خارجہ وکٹوریہ نولینڈ سے بات کر رہے ہیں۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق کیری اپنے دورے کے دوران شام میں خانہ جنگی کے سفارتی حل پر بات کریں گے جس کے لیے مذاکرات کا تازہ ترین دور جمعہ کو نیویارک میں ہو رہا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ منگل کو ماسکو پہنچ گئے ہیں جہاں وہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس سال جان کیری کا روس کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

ملاقات شروع کرنے سے قبل کیری نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ ’’مشترکہ مفادات‘‘ پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ شام، داعش اور یوکرین میں بدامنی ماسکو میں ہونے والی بات چیت میں اہم موضوعات ہوں گے۔

جان کیری نے کہا کہ ’’اگرچہ ہمارے درمیان کچھ اختلافات رہے ہیں مگر ہم مخصوص معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ مؤثر طریقے سے کام کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ روس نے ایران کے جوہری معاہدے پر بات چیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

لاوروف نے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمر پوتن اور صدر اوباما کی طرف سے شروع کی گئی اس بات چیت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں کہ امریکہ ’’یوکرین میں تصفیے‘‘ میں کس طرح مدد دے سکتا ہے۔

اپنے دورے کے دوران جان کیری روس کے صدر ولادیمر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔

روس روانہ ہونے سے قبل جان کیری نے پیرس میں اپنے یورپی اتحادیوں سے ان موصوعات پر بات چیت کی تھی۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق کیری اپنے دورے کے دوران شام میں خانہ جنگی کے سفارتی حل پر بات کریں گے جس کے لیے مذاکرات کا تازہ ترین دور جمعہ کو نیویارک میں ہو رہا ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ کیری منسک معاہدے پر مکمل عمدرآمد کی کوششوں پر بھی بات کریں گے جس میں مشرقی یوکرین میں جنگ بندی اور طرفین کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کے انخلا کے اقدامات شامل ہیں۔

روس اور امریکہ دونوں انٹرنیشنل سییریا سپورٹ گروپ کا حصہ ہیں جو ویانا میں مذکرات کے دو دور منعقد کر چکا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر وسیع اختلافات موجود ہیں۔

روس صدر بشار الاسد کی حمایت کرتا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ صد الاسد کو شام کے مسئلے کے طویل مدتی سیاسی مستقبل کا حصہ نہیں ہونا چاہیئے۔

امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد اور روس دونوں نے شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ امریکہ نے روس پر بارہا تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فضائی کارروائیوں کا ہدف داعش نہیں ہے۔

جمعرات کو شام میں حکومت مخالف گروپوں نے ریاض میں ایک اجلاس میں ایک وسیع منصوبے پر اتفاق کیا جس میں اقتدار کی منتقلی کے لیے جنوری میں صدر بشار الاسد کی حکومت سے مذاکرات کی تجویز شامل ہے۔ مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر اسد اس منصوبے پر متفق ہیں یا نہیں۔

عہدیدار نے کہا کہ کیری روسی عہدیداروں کے ساتھ شام میں ممکنہ جنگ بندی پر بات کریں گے اور وہ امریکی خدشات کا بھی اظہار کریں گے کہ روس کو اپنی کارروائیوں کا ہدف داعش کا بنانا چاہیئے۔

روس کی وزارت خارجہ نے کیری کے دورے کے بارے میں محتاط بیان دیا۔

’’روس امریکہ تعلقات کی صورتحال پیچیدہ ہے۔ روس نے مسلسل برابری باہمی احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔"

XS
SM
MD
LG