رسائی کے لنکس

امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب پہنچ گئے


امریکہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ

امریکہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ

جان کیری صدر اوباما کے اس موقف کو دہرا رہے ہیں جس میں انہوں نے "اسلامک اسٹیٹ" یعنی آئی ایس آئی ایل کی یہ کہتے ہوئے ملامت کی تھی کہ یہ "اسلامی " نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری سعودی عرب پہنچے ہیں جہاں وہ عرب رہنماؤں کے ساتھ '' اسلامک اسٹیٹ" کے خلاف ایک بین الااقومی اتحاد کی تشکیل کے بارے میں بات کریں گے۔

کیری صدر اوباما کے اسں اعلان کے تحت یہ دورہ کررہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اس گروہ کو عراق اور شام میں" تباہ و برباد" کر دیا جائے گا۔

مذاکرات میں شریک امریکی وزرات خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ " سعودی رہنماؤں کی میزبانی بہت اہم ہے کیونکہ وہ اپنے حجم اور معاشی اہمیت کی حوالے سے اس اتحاد کے ایک اہم رکن ہوں گے لیکن اس کے علاوہ سنیوں کے حوالے سے بھی ان کی مذہبی اہمیت ہے"۔

اس خطے اور عراق میں سنی اور شیعہ مسلک کے درمیان مذہبی تفریق کے مسئلے سے نمٹنا اس اتحاد کو کامیاب بنانے کے حوالے سے نہایت اہم ہے کیونکہ اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کی اکثریت سنی ہے اور عراق کی نئی شیعہ حکومت کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ وزیرخارجہ کیری عرب رہنماؤں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ سرکاری ذرائع ابلاغ بشمول الجزیرہ اور العربیہ کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی قیادت کو بھی اسلامک اسٹیٹ کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے استعمال کریں تاکہ نوجوانوں کے لیے اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت کی اپیل کو کمزور کیا جاسکے۔

اسی حوالے سے جان کیری صدر اوباما کے اس موقف کو دہرا رہے ہیں جس میں انہوں نے "اسلامک اسٹیٹ" یعنی آئی ایس آئی ایل کی یہ کہتے ہوئے ملامت کی تھی کہ یہ "اسلامی " نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی مذہب معصوم لوگوں کےقتل کی اجازت نہیں دیتا۔

کیری کا کہنا ہے کہ " آئی ایس آئی ایل کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلام کے لیے لڑرہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے نفرت انگیز نظریے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آئی ایس آئی ایل برائی کا اظہار ہے، یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور یہ وہ تنظیم ہے جو اپنے مقاصد صرف تشدد، جبر اور تباہی سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کا سرمایہ ناجائز ہے اور اس کے جنگجو غیر ملکی ہیں۔ اس نے علاقے پر قبضہ کیا ہے اور اس نے ان لوگوں کو خوف زدہ کیا ہے جو بغیر کسی مذہبی اور نسلی تفریق کے وہا ں رہ رہے ہیں"۔

اس دورے کے دوران کیری جدہ میں سعودی رہنماؤں کے علاوہ مصر، ترکی، اردن، بحرین، متحدہ عرب امارت، کویت' عمان اور قطر کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG