رسائی کے لنکس

جنسی تشدد کا خاتمہ، ٹھوس کوششوں کی ضرورت: جان کیری


امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ، ’جب لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آیا ہم جنگ کے دوران جنسی تشدد کا خاتمہ کر سکتے ہیں؟ مجھے کہنے دیجیئے کہ ایسا بالکل ہو سکتا ہے اور ہم یہ ہدف حاصل کر سکتے ہیں‘

امریکی وزیر ِخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ اور عالمی برادری ’زنا بالجبر کو جنگ کے ایک حربے کے طور پر‘ استعمال کو برداشت نہیں کرے گی۔

اُنھوں نے یہ بات لندن میں جنسی تشدد کے خلاف آگہی اجاگر کرنے سے متعلق اجلاس کے دوران اپنے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہی۔

اس موقعے پر جان کیری کا کہنا تھا کہ، ’جب لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آیا ہم جنگ کے دوران جنسی تشدد کا خاتمہ کر سکتے ہیں؟ مجھے کہنے دیجیئے کہ ایسا بالکل ہو سکتا ہے اور ہم یہ ہدف حاصل کر سکتے ہیں‘۔

اس کانفرنس کا مقصد جنگ کے دوران جنسی تشدد کو قبول کرنے کے تصور کو ختم کرنا تھا۔

کانفرنس میں ایسے افراد اور تنظیموں کی امداد کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی جو اس محاذ پر نبردآزما ہیں۔

برطانوی حکومت نے اس مقصد کے لیے 23 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جنسی تشدد کے خاتمے سے متعلق عالمی کانفرنس کا آغاز چار روز قبل لندن میں ہوا تھا۔
اس کانفرنس کا ایک دلچسپ پہلو معروف ہالی ووڈ اداکارہ انجیلینا جولی کی شرکت تھی۔

کانفرنس کے آغاز سے اپنے خطاب میں برطانوی وزیر ِ خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کی مدد سے جنسی زیادتی یا زنا بالجبر کے مسائل اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ دو برس سے برطانوی وزیر ِخارجہ اور انجیلینا جولی اس موضوع پر اکٹھے کام کرتے رہے ہیں۔

جنسی تشدد سے متعلق اس کانفرنس میں 120 ممالک کے مندوبین نے شرکت کی جس میں حکومتی عہدیدار، سرگرم کارکن اور عدلیہ کے نمائندے بھی شامل تھے۔

اس کانفرنس کا مقصد دنیا بھر میں جنسی تشدد کرنے والوں کا تعین کرنے اور انہیں سزا دینے کے لیے اقدامات پر زور دینے کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے مدد کا انتظام کرنا بھی تھا۔

برطانوی وزیر ِخارجہ ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ اینجیلینا جولی کے ساتھ، جو کہ اقوام ِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کی خصوصی سفیر ہیں، ان کی شراکت داری سود مند رہی اور انہیں جنسی تشدد سے متعلق مسائل کو عالمی منظر نامے پر اجاگر کرنے میں مدد ملی۔

برطانوی وزیر ِخارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’انجیلینا جولی نے وہ کر دکھایا جو حکومتیں نہیں کر سکتیں‘۔

واضح رہے کہ ہالی ووڈ اداکارہ انجیلینا جولی 2001ء سے انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں۔ 2001ء میں انہوں نے بطور اقوام ِ متحدہ کی سفیر برائے ادارہ پناہ گزین کی حیثیت میں مغربی افریقہ کے ملک سیرہ لیون کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے نہ صرف خانہ جنگی کے اثرات کو قریب سے دیکھا بلکہ انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اس ملک میں 60 ہزار کے قریب خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انجیلینا جولی کا کہنا تھا کہ، ’عالمی سطح پر ہم نے ایک کمیونٹی ہونے کے ناطے کبھی بھی ان مسائل سے لڑنے اور ان کے خاتمے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے۔ جو لوگ جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں ہم ان کے گناہ گاروں کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لا کر ان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ آج ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ہم اس رویے کو بدلیں‘۔

برطانوی وزیر ِخارجہ ولیم ہیگ اور انجلینیا جولی نے اس بات پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اس سمٹ میں محض باتیں نہ کی جائیں بلکہ یہ سمٹ جنسی تشدد کے خاتمے کے کلچر کو ختم کرنے کی ایک امید کے طور پر ابھرے۔

لندن میں منعقد ہونے والے اس سمٹ میں دنیا بھر سے چند عبرت انگیز کیسز کو سامنے رکھا گیا جس میں حال ہی میں نائیجیریا میں 200 لڑکیوں کے اغواء، پاکستان میں ایک نوجوان حاملہ خاتون کو اینٹوں سے قتل کرنے اور بھارت میں دو چھوٹی بچیوں کو زیادتی کے بعد پیڑ سے لٹکانے کے واقعات سر ِ فہرست رہے۔
XS
SM
MD
LG