رسائی کے لنکس

امریکہ مصر کو کروڑوں ڈالرکی امداد دے گا


قاہرہ: مرسی اور کیری کی ملاقات

قاہرہ: مرسی اور کیری کی ملاقات

جان کیری نے کہا کہ بے انتہا منقسم ملک کے استحکام کی خاطر اور معاشی اصلاحات کی شدید ضرورت کو پورا کرنے کے لیے امریکہ مصر کو 45کروڑ ڈالر کی امداد دے گا، جِس میں سے 16کروڑ ڈالرکی رقم فوری طور پر فراہم کردی جائے گی

اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مصر کے صدر محمد المرسی سے ملاقات کی جس میں اُنھوں نے مصر کے لیے مالی امداد کا وعدہ کیا، جس سے قبل امریکہ کا یہ کلیدی علاقائی اتحادی معاشی اور سیاسی اصلاحات کی یقین دہانی کرا چکا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد کسی عرب ملک کے دارالحکومت کا یہ اُن کا پہلا دورہ تھا۔

کیری نے کہا کہ شدید منقسم ملک کے استحکام کی خاطر اور معاشی اصلاحات کی اشد ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امریکہ مصر کو 45کروڑ ڈالر کی امداد دے گا، جِس میں سے 16 کروڑ ڈالر کی رقم فوری طور پر فراہم کر دی جائے گی۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ مصر کے چھوٹے کاروباروں اور نوجوان افراد کی مدد کے لیےامریکہ چھ کروڑ ڈلر کی اضافی رقم فراہم کرے گا۔

کیری نے کہا کہ یہ امداد اس لیے جاری کی جارہی ہے کیونکہ مسٹر مرسی نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ چار ارب آٹھ کروڑ ڈالر کے قرض کا ایک سمجھوتا طے کر لیا ہے، جو کئی ماہ سے کٹھائی میں پڑا ہوا تھا۔

مصر کےوزیر مالیات نے اتوار کےدِن اِس امید کا اظہار کیا کہ اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل آئی ایم ایف کے ساتھ یہ سمجھوتا طے پا جائے گا۔

امریکی حکام نے بتایا ہے کہ کیری مصر کے کلیدی علاقائی کردار کےبار میں بات چیت کے خواہاں تھے جِس میں اسرائیل کے ساتھ مصر کے امن معاہدے پر زور دینا شامل تھا اور ساتھ ہی غزا کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین تنازعات پر ثالثی کے فرائض انجام دینا بھی شامل تھے۔

اس بات چیت سے قبل کیری نے مصر کے وزیر خارجہ اور حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کے ساتھ ملاقات کی، جب کہ اپوزیشن کے چند ایک لیڈروں نے چوٹی کے امریکی سفارت کار سے ملنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ امریکہ مصر کے صدر اور اُن کے اسلام پسند اتحادیوں کا بہت حامی رہا ہے۔


محمد البرداعی نے، جو ملک کی اپوزیشن کے اہم اتحاد ’نیشنل سالویشن فرنٹ‘ کے راہنماؤں میں سے ایک ہیں، کیری سے ملنے سے انکار کیا، اور اس کے برعکس اُن سے ٹیلیفون پر بات کرنے پر اکتفا کیا۔ ملاقات کے لیے مدعو کیے گئے 11مہمانوں میں سے تقریباً نصف تعداد امریکی سفارت خانے پہنچی۔
XS
SM
MD
LG