رسائی کے لنکس

جان کیری کی وسطی ایشائی ریاستوں کے رہمناؤں سے ملاقات


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت جب امریکہ اور روس کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے کیری کے دورے کا مقصد وسطی ایشیائی ریاستوں کو امریکہ کے ساتھ پائیدار تعلقات کی یقین دہانی کروانا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اتوار کو ازبکستان کے صدر او دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔

وزیرخارجہ جان کیری یورپ اور مشرق وسطیٰ میں مختصر قیام کے بعد وسط ایشیا کا دورہ کر رہے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے سابق سویت یونین کی پانچ ریاستوں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔

ان سب ممالک کو افغانستان میں طالبان کی بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اپنے شہریوں کی داعش جیسی انتہا پسندوں تنظمیوں میں شمولیت پر تشویش ہے۔ کیری نے ان تحفظات کے بارے میں قدیم شاہراہ ریشم پر واقع شہر ثمر قند میں ان رہنماؤں بات چیت کی۔

کیری نے کہا کہ ’’ہم اقتصادی ترقی، مواصلات، قدرتی ماحول، علاقائی سلامتی و استحکام اور انسانی صورت حال کے بارے میں بات کریں گے۔ تاریخ کے اس مخصوص لمحے میں معاشی اور سلامتی کے معاملات ایک ساتھ چلتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔‘‘

اس سے قبل کیری نے ازبکستان کے صدر اسلام کریموف سے بات چیت کی جو امریکہ کا کسی مطلق العنان حکمران کے ساتھ غیر معمولی رابطہ ہے۔ کریموف کو انسانی حقوق کی صورت حال کی بنا پر اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

وزارت خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ ’’کیری اور کریموف نے عالمی معاملات پر مشترکہ تحفظات کے بارے میں بات کی جن میں پرتشدد انتہا پسندی اور سلامتی و استحکام شامل ہیں۔‘‘

77 سالہ ازبک صدر 1990 سے اپنے ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت جب امریکہ اور روس کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے کیری کے دورے کا مقصد وسطی ایشیائی ریاستوں کو امریکہ کے ساتھ پائیدار تعلقات کی یقین دہانی کروانا ہے۔ تاہم ان پر یہ بھی دباؤ ہے کہ وہ ان ریاستوں میں انسانی حقوق کی خراب صورت حال پر بھی بات کریں۔

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے کیری پر زور دیا ہے کہ وہ بے گناہ قیدیوں کی رہائی، تشدد کے خاتمے اور دیگر انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے اپنا اثرو رسو خ استعمال کریں۔

وسطی ایشیا کی پانچ ریاستوں اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں ان معاملات اور دیگر امور پر تعاون کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

ان میں علاقائی تجارت، کاروبار کے موافق ماحول کا فروغ، قدرتی ماحول سے متعلق چیلنجوں کے پائیدار حل، انسداد دہشت گردی اور منشیات، ہتھیاروں اور انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام جیسے معاملات پر تعاون شامل ہیں۔

صحافیوں کے حقوق کی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس 'سی پی جے' نے حال ہی میں کیری کی توجہ سیاسی وجوہات پر قید صحافیوں، آن لائن سنسرشپ اور میڈیا کے ارکان کے خلاف حملوں کے معاملے کی طرف مبذول کروائی تھی۔

سی پی جے کا کہنا ہے کہ اس کی اپنی تحقیق کے مطابق سویت یونین کے دور کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں میں میڈیا کی آزادی ’’مسلسل خراب‘‘ ہوئی ہے۔​

XS
SM
MD
LG