رسائی کے لنکس

جان کیری کی سعودی قیادت اور یمنی صدر سے ملاقات


جان کیری اور یمنی صدر منصور ہادی

جان کیری اور یمنی صدر منصور ہادی

یمن نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ملک میں حوثی باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے اور خصوصاً عدن اور تعز کے شہروں کو بچانے کے لیے یہاں زمینی کارروائی کرے۔

امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے جمعرات کو یمن کے صدر عبدالربو منصور ہادی سے ملاقات کی ہے جس میں ان کے بقول "تعمیری" بات چیت ہوئی۔

کیری یمن میں سعودی عرب کی زیر قیادت کی جانے والی فضائی کارروائیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معطل کرنے کے معاملے پر بات چیت کے لیے بدھ کو ریاض پہنچے تھے۔

یمن کے صدر منصور ہادی بھی گزشتہ ماہ حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد سعودی عرب منتقل ہو گئے تھے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ "ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی اصولوں کو مدنظر رکھیں۔"

انھوں نے جمعرات کو ہی سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز اور وزیرخارجہ عادل عبدالجبیر سے بھی ملاقات کی۔

اس سے قبل یمن نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ملک میں حوثی باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے اور خصوصاً عدن اور تعز کے شہروں کو بچانے کے لیے یہاں زمینی کارروائی کرے۔

اقوام متحدہ کے لیے یمن کے سفیر خالد الیمنی نے سلامی کونسل کی صدر کے نام ایک خط میں انھوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ نہتی آبادی کے خلاف حوثی باغیوں کے "وحشیانہ تشدد" کو بھی نظر میں رکھے۔

اس خط کے بارے میں مزید تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں اور نہ ہی سفیر الیمنی نے اس بارے میں کوئی واضح بیان دیا۔ لیکن یہ خط ایک ایسے وقت لکھا گیا ہے جب بین الاقوامی برادری یمن میں جنگ بندی یا پھر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس میں وقفے پر زور دے رہی ہے۔

حوثی باغیوں نے گزشتہ سال دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد دیگر شہروں میں پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ صدر منصور ہادی ان دنوں میں سعودی عرب میں مقیم ہیں جب کہ ان کے ملک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے لیکن تہران اس کی تردید کرتا ہے۔

سعودی عرب نے اپنے خلیجی اور عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر مارچ کے اواخر میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں اور تقریباً ایک ماہ بعد یہ کہہ کر کارروائی کو محدود کر دیا تھا کہ اہداف حاصل ہونے کے بعد اب یہاں صورتحال سیاسی حل کی طرف جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق مارچ کے بعد سے اب تک یمن میں 646 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ تین لاکھ کے لگ بھگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

سلامتی کونسل کی صدر ریمنڈا مرموکائیت کی ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ انھیں خط موصول ہو گیا ہے لیکن ان کے بقول جمعرات کو اس پر بحث کے لیے کونسل کا کوئی اجلاس طے نہیں کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG