رسائی کے لنکس

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان جان کِربی نے بتایا ہے کہ ’ملاقات میں اُنھوں نے تشدد کو روکنے، مغربی کنارے اور غزہ میں صورت حال کو بہتر بنانے اور سفارتی عمل کی راہ پر گامزن ہونے کے سلسلے میں ٹھوس خیالات پر گفتگو کی‘

امریکی وزیر خارجہ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے بدھ کو واشنگٹن میں ملاقات کی، جسے محکمہٴخارجہ نے ’تعمیری‘ قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں، ترجمان جان کِربی نے بتایا ہے کہ ’ملاقات میں اُنھوں نے تشدد کو روکنے، مغربی کنارے اور غزہ میں صورت حال کو بہتر کرنے اور سفارتی عمل کی راہ پر گامزن ہونے کے سلسلے میں ٹھوس خیالات پر گفتگو کی‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’خطے کے لیے خصوصی ایلچی، فرینک لونسٹائین اور اُن کی ٹیم آئندہ دِنوں اسرائیل کا سفر کریں گے‘، تاکہ، بقول ترجمان، ’گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور اِن خیالات میں مزید بہتری لائی جائے‘۔

اِس سے قبل، 9 تاریخ کو امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے پیر کے روز واشنگٹن میں ملاقات کی، جس کا مقصد، امریکی سربراہ کے بقول، ’مشرق وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے سکیورٹی کے ماحول سے نمٹنے کے لیے طریقہ کار تلاش کرنا تھا‘۔ دونوں رہنماؤں کے مابین اکثر تعلقات تُرش نوعیت کے رہے ہیں اور ایک برس سے زائد عرصے کے دوران یہ اُن کی پہلی ملاقات تھی۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ بات چیت جولائی میں امریکہ اور پانچ دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر طے ہونے والے سمجھوتے پر نیتن یاہو کی کھل کر مخالفت سامنے آنے کے بعد ہوئی ہے۔ تاہم، اوباما نے اِسے نااتفاقی کا ایک ’معمولی معاملہ‘ قرار دیا۔

دونوں سربراہان نے دونوں ملکوں کے درمیان طویل مدت سے قائم فوجی اور سکیورٹی سے متعلق اتحاد کا گرمجوشی سے اعادہ کیا۔ اوباما نے ’اسرائیل کی سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اولین مقصد‘ قرار دیا۔
اوباما نے کہا کہ وہ اور نیتن یاہو اس بات کو زیر غور لائیں گے آیا داعش، حزب اللہ اور دیگر باغی گروپوں کی سرگرمیوں کا کس طرح کھل کر مقابلہ کیا جائے، جو ’دہشت گرد سرگرمیوں میں مشغول ہیں‘۔

اُنھوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری سمجھوتے کی مخالفت کو تسلیم کیا، جس معاہدے کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگائی گئی ہیں، لیکن اس کے خلاف معاشی تعزیرات بھی اٹھالی جائیں گی۔ اوباما نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں‘ کو روکنے کے سلسلے مین دونوں رہنما یکسان لائحہ عمل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

اوباما انتظامیہ کیے اہل کاروں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی صدر یہ نہیں سمجھتے کہ فلسطینی ریاست کے قیام پر سمجھوتا 2017ء سے پہلے ممکن ہے، جب وہ اپنا عہدہ صدارت چھوڑ رہے ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG