رسائی کے لنکس

جوہری معاہدے پر 'نا' اتحادیوں سے تناؤ کا سبب بن سکتی ہے: کیری


امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ

جان کیری کا کہنا تھا کہ اگر کانگریس اس معاہدے کو نامنظور کرتی ہے تو اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو بھی ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کانگریس ایران کے جوہری معاہدے کو مسترد کرتی ہے تو اس سے امریکہ کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ دیگر حساس معاملات پر تعلقات عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ بات انھوں نے تھامسن روئٹرز میڈیا کمپنی کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق منعقدہ ایک مباحثے میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ "میرے (امریکہ کے) دوستوں کے لیے یوکرین کے معاملے پر علیحدہ ہونے کی یہی ترکیب ہے، جہاں وہ پہلے ہی خطرے میں ہیں اور یہ کہنے کے لیے تیار ہیں کہ ہم نے اپنا حصہ ڈال دیا۔"

جان کیری کا اشارہ یوکرین کی حکومت کے حامی یورپی ملکوں کی طرف تھا جو کہ روس نواز باغیوں سے نبرز آزما ہیں۔

گزشتہ ماہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والے معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے کانگریس کے پاس 60 دن کا وقت ہے۔ قانون ساز اسے منظور یا مسترد کر سکتے ہیں۔

صدر براک اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کانگریس اسے نامنظور کرتی ہے تو وہ اسے ویٹو کر دیں۔ لیکن یہ ویٹو کانگریس کی دو تہائی اکثریت سے ختم ہو سکتا ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ اگر کانگریس اس معاہدے کو نامنظور کرتی ہے تو اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو بھی ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ اس معاہدے میں امریکہ کے علاوہ اقوام متحدہ کے دیگر چار مستقل ارکان (برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین) اور جرمنی بھی شامل ہیں۔

کیری نے کہا کہ "اگر امریکہ اس طرح سے برتاؤ کرتا ہے تو اس سے نہ صرف ہم پابندیاں عائد کرنے کے معاملے میں ان کی حمایت کھو دیں گے بلکہ اگر ہمیں فوجی قوت استعمال کرنا ہوگی تو بھی ان کی حمایت حاصل نہیں ہو گی۔"

اس معاہدے کے تحت ایران کو اپنا جوہری پروگرام محدود کرنا ہوگا اور بین الاقوامی معائنہ کار اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ایران معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔ اس کے عوض ایران پر عائد تعزیرات ختم کر دی جائیں گی

اسرائیل اس معاہدے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے اپنی اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG