رسائی کے لنکس

روس پر مزید پابندیوں کے لیے تیار ہیں: جان کیری


جان کیری کی وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو

جان کیری کی وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو

جان کیری نے کہا کہ صورتحال کو بہتر کرنے کی بجائے اسے بڑھاوا دینا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کا ملک، یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا کو اپنا حصہ بنانے پر، روس کے خلاف اضافی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔

وائس آف امریکہ کی فارسی سروس سے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ روس کے اقدامات سے یوکرین میں عدم استحکام کا خطرہ ہے

‘‘میں نہیں سمجھتا کہ یہ کسی کے بھی مفاد میں ہے۔ سب سے پہلے یہ کسی کے فائدے میں نہیں کہ روس کی طرف فوجی بھیجنے یا زیادہ اشتعال انگیزی سے یوکرین میں صورتحال کو مزید خطرناک بنایا جائے۔’’

انھوں نے مزید کہا کہ صورتحال کو بہتر کرنے کی بجائے اسے بڑھاوا دینا کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا۔

‘‘اور تیسری بات یہ کہ شام، ایران اور افغانستان کے معاملات پر جہاں ہم تعاون میں کامیاب رہے ہیں اس صورتحال سے سنجیدہ معاملات کے متاثر ہونے سے بھی کسی کو فائدہ نہیں ہو گا۔’’

مسٹر کیری کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر براک اوباما نے ماسکو کے خلاف اقتصادی پابندیاں بڑھانے کا اعلان کیا۔ ان تعزیرات کی زد میں آنے والوں میں روس کے 20 قانون ساز اور اعلیٰ حکام کے علاوہ ان کی حمایت کرنے والا ایک موقر بینک بھی شامل ہے۔

کیری کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی ایک ملک کو ان کے بقول ’’جنگ عظیم دوئم کے بعد کے ورلڈ آرڈر‘‘ اور ’’بین الاقوامی ڈھانچے‘‘ کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ روس کے صدر ولادیمرپوٹن پر منحصر ہے کہ انھیں کیسے پیش رفت کرنی ہے۔

’’اگر وہ غیر قانونی اور اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں تو ہم اس کے جواب بہت سخت اضافی اور سنگین تعیزات لگانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

وزیرخارجہ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یوکرین کے معاملے پر امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر بین الاقوامی معاملات پر ان دونوں کی کارگزاری اثرانداز ہوگی۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ مذاکرات دنیا کے لیے، ایرانی عوام اور ہمارے تعلقات کے مستقبل کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس تصفیے میں روس کی بھی گہری دلچسپی رہی ہے اور اسی لیے وہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے معاہدے پر عالمی طاقتوں کی کوششوں کا حصہ ہے۔‘‘

مغربی ممالک ایران پر یورینیم افژودہ کرنے کے پروگرام کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں جنہیں تہران مسترد کرتا آیا ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری ایران سے متعلق معاملات بغیر کسی اختلاف کے حل کر سکتے ہیں۔

’’صدر اوباما سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دینے کے عزم پر قائم ہیں لیکن اس کا دار و مدار (ایران کی) حکومت پر ہے۔‘‘

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران کو پرامن جوہری پروگرام رکھنے کا حق ہے اور یہ معاہدے کو تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن یہ احتساب کے بین الاقوامی اصولوں، شفافیت اور دنیا میں رائج دیگر پروگرامز تک ہی محدود ہونا چاہیئے۔
XS
SM
MD
LG