رسائی کے لنکس

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اسرائیل - فلسطین تنازع کا واحد حل دو ریاستوں کے قیام سے ہی ممکن ہے لیکن اس مجوزہ حل کا مستقبل خطرے میں ہے۔

بدھ کو امریکی محکمۂ خارجہ میں اسرائیل فلسطین تنازع پر پالیسی خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی قرارداد ویٹو نہ کرنے کے امریکی فیصلے کا دفاع کیا اور اس بارے میں اسرائیلی حکومت کی تنقید مسترد کردی۔

قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی مذمت کی گئی تھی۔

امریکہ ماضی میں سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قراردادیں ویٹو کرتا رہا ہے لیکن گزشتہ ہفتے ہونے والی قرارداد پر امریکہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا جس کے بعد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے مذکورہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی تھی۔

قرارداد کی منظوری اور امریکہ کی جانب سے اسے ویٹو نہ کرنے پر اسرائیلی حکومت سخت برہم ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس قرارداد کا ذمہ دار امریکی صدر براک اوباما اور وزیرِ خارجہ جان کیری کو ٹہراتے ہوئے امریکی پالیسی کو اسرائیل کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

بدھ کو اپنے خطاب میں سیکریٹری کیری نے امریکہ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی قرارداد مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو بچانے کا ایک راستہ تھا جسے ویٹو نہ کرنے کا فیصلہ ان اقدار کے عین مطابق تھا جن پر امریکہ یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی ان سے دوستی کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کی ہر پالیسی کو تسلیم کرلے گا، جو درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل سمجھتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک ریاست کے قیام سے حل ہوسکتا ہے تو اسرائیل صرف جمہوریت سے محروم ایک یہودی ریاست کے طور پر ہی باقی رہ پائے گا۔

جان کیری نے کہا کہ اسرائیل کی بطور ایک جمہوری اور یہودی ریاست سلامتی اور استحکام کا واحد راستہ "دو ریاستی حل" ہے اور یہی فلسطینیوں کے دیرینہ مطالبات بھی پورے کرسکتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی بستیوں کی تعمیر جاری رکھی تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اقوامِ متحدہ خاموش نہیں رہے گی اور امریکہ عالمی ادارے کے کسی بھی جائز قدم کی راہ میں حائل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی قرارداد نے اسرائیل کو تنہا نہیں کیا بلکہ یہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی ہے جس کے باعث اسرائیل عالمی برادری میں تنہا ہوتا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں قوموں اور خطے کے امن اور محفوظ مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل - فلسطین تنازع پر کھل کر بات کی جائے۔

اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو گزشتہ ہفتے یروشلم میں ہونے والے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں شریک ہیں (فائل)

اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو گزشتہ ہفتے یروشلم میں ہونے والے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں شریک ہیں (فائل)

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے دو ریاستی حل کے سرِ عام حمایت کی ہے لیکن انکی سربراہی میں قائم حکومت اسرائیل کی تاریخ کی سب سے قدامت پسند حکومت ہے جس کی سرگرمیاں اس حل کے منافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد میں شامل دائیں بازو کی جماعتیں کھل کر دو ریاستی حل کے خلاف کام کر رہی ہیں اور انہیں اسرائیلی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔

جان کیری نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی مسلسل تعمیر نہ صرف فلسطینیوں کو غلط پیغام دے رہی ہے بلکہ ا س نے امریکہ اور اسرائیل کی دوستی کو بھی امتحان میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہودی بستیوں کی موجودگی میں فلسطینیوں کی حقیقی معنوں میں ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام ممکن نہیں۔

جان کیری نے کہا کہ اوسلو معاہدے کے تحت اسرائیل کو مغربی کنارے کے جو علاقے فلسطینیوں کے حوالے کرنا تھے ان میں سے 60 فی صد علاقوں میں اب تک فلسطینیوں کو داخلے کی بھی اجازت نہیں۔

مغربی کنارے کے ایک مقبوضہ علاقے مالے ایدومیم میں واقع ایک اسرائیلی بستی کا منظر

مغربی کنارے کے ایک مقبوضہ علاقے مالے ایدومیم میں واقع ایک اسرائیلی بستی کا منظر

اسرائیلی حکومت کی جانب سے صدر براک اوباما پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ماضی میں کسی امریکی صدر نے اسرائیل کے ساتھ تعاون اور اس کے تحفظ کے لیے اتنا کام نہیں کیا جتنا صدر اوباما کی حکومت نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے پورے دورِ صدارت کے دوران صدر اوباما اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور اسی لیے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن ان کی ترجیحِ اول رہی کیوں کہ یہی اسرائیل کے تحفظ کا واحد راستہ ہے۔

جان کیری نے کہا کہ امریکہ نے اپنے معاشی بحران کے دوران بھی اسرائیل کی معاشی اور فوجی مدد جاری رکھی اور اسرائیل اس وقت امریکی دفاعی امداد وصول کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین تنازع صرف اسی صورت میں حل ہوسکتا ہے جب دونوں فریق تشدد کا راستہ ترک کرکے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عمل کریں۔

جان کیری نے کہا کہ امریکہ کی پالیسی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے جاری تنازع کا پائیدار اور پرامن حل اسی صورت میں ممکن ہے جب ان رہنما اصولوں کو مدِ نظر رکھا جائے:

اول، اسرائیل کے قیام کا حق تسلیم کیا جائے گا۔ دوم، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی علیحدہ علیحدہ ریاستیں قائم ہوں۔ سوم، بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔ چہارم، یروشلم کے مستقبل کا فیصلہ دونوں فریقوں کی خواہشات کے مطابق ہو، اسرائیل کی سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی جائے اور فلسطینی اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی پرتشدد کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں اور خطے کے تمام ممالک اس انتظام کو تسلیم کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لائیں۔

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد ویٹو نہ کرنے پر اوباما انتظامیہ پر کڑی تنقید کی تھی اور اسے اسرائیل کی ہتک قرار دیا تھا۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG