رسائی کے لنکس

جان کیری کا جوہری مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ


جان کیری اتوار کو ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں

جان کیری اتوار کو ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں

جان کیری نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں نے معاہدے پر اتفاقِ رائے کی جانب "حقیقی پیش رفت" کی ہے لیکن فریقین کے درمیان اب بھی بیشتر "مشکل مسائل" پر اختلافات برقرار ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جوہری معاہدے پر "خاصی پیش رفت" کی ہے لیکن فریقین کے درمیان اب بھی کئی حل طلب اختلافات موجود ہیں۔

اتوار کو ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں نے معاہدے پر اتفاقِ رائے کی جانب "حقیقی پیش رفت" کی ہے لیکن فریقین کے درمیان اب بھی بیشتر "مشکل مسائل" پر اختلافات برقرار ہیں۔

سیکریٹری کیری نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر لچک نہ دکھائی تو امریکہ مذاکرات سے پیچھے ہٹ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر مقرر تاریخ سے قبل کوئی معاہدہ نہ ہوا اور اگر ایران نے ان معاملات پر لچک اور سمجھوتے کا مظاہرہ کرنے میں سنجیدگی نہ دکھائی جو امریکہ کے لیے اہم ہیں تو صدر براک اوباما کئی بار واضح کرچکے ہیں کہ امریکہ مذاکرات سے دستبردار ہوجائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام پر ایک "اچھا سمجھوتا" چاہیے اور وہ اسی ہدف کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایک سوال پر جان کیری نے کہا کہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ فریقین کسی معاہدے پر اتفاق کے اتنا قریب کبھی نہیں پہنچے جتنا اب ہیں، لیکن اب بھی بہت سے حل طلب مسائل موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ چند روز میں کچھ سخت فیصلے کرلیے جائیں تو رواں ہفتے کے دوران معاہدے پر اتفاق ہوسکتا ہے۔

امریکہ کے علاوہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں شریک دیگر پانچ عالمی طاقتوں میں سے برطانیہ، فرانس، روس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ بھی اتوار کو واپس ویانا پہنچ رہے ہیں تاکہ 7 جولائی کی ڈیڈلائن سے قبل جوہری معاہدے پر اتفاقِ رائے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے آخری ادوار میں شریک ہوسکیں۔

جان کیری اور ان کے ایرانی ہم منصب جواد ظریف پہلے ہی ویانا میں موجود ہیں جہاں انہوں نے اتوار کو بھی ملاقات کی۔

جان کیری اور جواد ظریف کے علاوہ چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی بھی ویانا میں مقیم ہیں اور فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شریک ہیں۔

مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے واقف ذرائع نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ ایران سے پابندیاں اٹھانے کے متنازع معاملے پر فریقین کے درمیان عبوری اتفاق ہوگیا ہے جس کی حتمی منظوری مذاکرات میں شریک ملکوں کے وزرائے خارجہ دیں گے۔

XS
SM
MD
LG