رسائی کے لنکس

جوہری معاہدے کے نتیجے میں دنیا محفوظ ہوگی، جان کیری


جان کیری نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ ایران سے جمہوریت اور اپنے شہریوں کو حقوق اور آزادی دینے کے مطالبات سے دستبردار ہوگیا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے نتیجے میں دنیا مزید محفوظ ہوجائے گی۔

'وائس آف امریکہ' کی فارسی سروس کو رواں ہفتے دیے جانے والے ایک انٹرویو میں امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں ایرانی عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا اور امریکہ اور ایران، دونوں کو تعاون اور ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔

'وی او اے' فارسی سروس کے ستارہ درخشش کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ معاہدے کے حامی، مخالفین کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے نتیجے میں خطے میں تصادم کو روکنے اور سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر بنانے کا ایک موقع میسر آیا ہے۔

جان کیری نے کہا کہ وہ جوہری معاہدے پر تحفظات دور کرنے کے لیے ارکانِ کانگریس سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور آئندہ 60 روز کے دوران کانگریس کے ارکان کو "معاہدے کی حقیقت" سے آگاہ کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

خیال رہے کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کا مسودہ اتوار کو امریکی کانگریس میں پیش کردیا ہے جس کے پاس اسے منظور یا رد کرنے کے لیے 60 روز کا وقت ہے۔

انٹرویو کے دوران سیکریٹری کیری نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کانگریس کے پاس معاہدے کے تفصیلی جائزے کے لیے دو ماہ کا وقت ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ کوئی فیصلہ کرتے وقت ارکانِ کانگریس معاہدے کے فوائد کو پیشِ نظر رکھیں گے اور اس حقیقت کو سمجھیں گے کہ معاہدے کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش خطے کو تصادم اور جنگ کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہوگی۔

ری پبلکن رہنما جوہری معاہدے پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں اور معاہدے کو کانگریس میں مسترد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں جس کے دونوں ایوانوں میں انہیں اکثریت حاصل ہے۔

لیکن صدر اوباما بھی واضح کرچکے ہیں کہ اگر کانگریس نے معاہدے کو رد کیا اور ایران پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے کی منظوری نہ دی تو وہ اس کا فیصلہ ویٹو کردیں گے۔

معاہدے کے بعض ناقدین کا موقف ہے کہ امریکہ کو جوہری معاہدے میں ایرانی قیادت سے اپنے ملک میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بہتر بنانے، جمہوری اصلاحات متعارف کرانے اور ایران میں قید امریکی شہریوں کی رہائی جیسے مطالبات بھی کرنے چاہیے تھے۔

انٹرویو کے دوران اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی نوعیت عالمی طاقتوں کی فوری توجہ اور ترجیح کی متقاضی تھی کیوں کہ اس کے نتیجے میں خطے میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ شروع ہوسکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ترجیحی معاملے پر اپنی توجہ مرکوز کرکے اسے نبٹانے کی کوشش کی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ ایران سے جمہوریت اور اپنے شہریوں کو حقوق اور آزادی دینے کے مطالبات سے دستبردار ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت ایران میں قید اپنے شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا کبھی نہیں بھولی اور آئندہ بھی اس معاملے کو ایرانی حکام کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔

ایک سوال پر جان کیری نے ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے اس بیان کو "انتہائی منفی اور ڈرامائی" قرار دیا جس میں انہوں نے جوہری معاہدے طے پانے کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان دیگر امور پر تعاون کا امکان رد کردیا تھا۔

لیکن جان کیری نے واضح کیا کہ فی الحال ان کی حکومت کی تمام تر توجہ جوہری معاہدے پر مرکوز ہے اور وہ اس نوعیت کے بیانات کے باوجود اس کی کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدے پر عمل درآمد کے دوران امریکہ یہ محسوس کرتا ہے کہ ایران کی دیگر سرگرمیاں امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں تو واشنگٹن ان کے سدِ باب کے لیے ہر وہ قدم اٹھائے گا جس کی ضرورت ہوگی۔

XS
SM
MD
LG