رسائی کے لنکس

’’ایسی بندش سے شام کو وہ ہتھکنڈے اختیار کرنے سے روکا جا سکے گا جو اُس نے ماضی میں جاری رکھے ہیں، جس میں وہ شہری آبادی والے اہداف کو نشانہ بناتا ہے، اس بہانے سے کہ وہ نصرہ کو ہدف بنا رہا ہے‘‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اگر شام میں جنگ بندی کا سمجھوتا بچایا جاسکتا ہے، تو اس کے لیے جنگی طیارے ملک کے کچھ کلیدی حصوں پر سے پرواز کرنا بند کریں۔

کیری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کو بتایا کہ ’’اس لیے، میں سمجھتا ہوں کہ اس عمل کو قابل بھروسہ بنانے کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور تمام کلیدی علاقوں میں اُڑنے والے طیاروں کو پرواز سے روکا جائے، تاکہ صورت حال کی کشیدگی میں کمی لائی جاسکے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسد جاری رکھی جاسکے‘‘۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر اس عمل میں اعتماد کرنے کا موقع میسر آسکے گا۔

اُنھوں نے کہا ہےکہ ’’ایسی بندش سے شام کو وہ ہتھکنڈے اختیار کرنے سے روکا جا سکے گا جو اُس نے ماضی میں اختیار کر رکھیے ہیں، جس میں وہ شہری آبادی والے اہداف کو نشانہ بناتا ہے، اس بہانے سے کہ وہ نصرہ کو ہدف بنا رہا ہے‘‘۔

نصرہ اور نام نہاد داعش دو ایسے دہشت گرد گروپ ہیں جنھیں معاہدے سے باہر رکھا گیا ہے، اور اُنھیں شکست دینے کے لیےامریکہ اور روس کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھنا ہوگا۔

کیری نے کہا کہ وہ روس پر یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ امریکہ اب بھی سفارتی حل تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’امریکہ اب بھی یہی سمجھتا ہے کہ کوئی راستا نکل آئے گا، حالانکہ یہ سنگلاخ، مشکل اور غیر یقینی بھی ہوسکتا ہے، جس کے ذریعے اس خونریزی سے بچنے کی ایک بہتر راہ نکل سکتی ہے‘‘۔

کیری نے مزید کہا ہے کہ وہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ شام کا بحران اس سے زیادہ خراب صورت اختیار نہیں کرسکتا وہ ’’بالکل غلط‘‘ ہیں؛ اور یہ کہ دو ہفتے قبل جنیوا میں روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی ناقص ہوسکتی ہے، لیکن اس کا متبادل موجود نہیں، ’’یہ کسی حد تک حقیقت پسندانہ ہے جس سے بہتر نتائج برآمد ہوں گے‘‘۔

امریکی ایلچی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی کبھار یہ سوچتے ہیں کہ لاوروف کسی ’’خیالی دنیا میں بستے ہیں‘‘ جب معاملہ شام کے زمینی حقائق کا ہو۔


XS
SM
MD
LG